تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ …:} ایک ذہن کے لوگوں کے گروہ اور جماعت کو {”عُصْبَةٌ“} اور {” عِصَابَةٌ“} کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہوتے ہیں اور {” عَصَبَ يَعْصِبُ “} (ض) کا معنی باندھنا اور مضبوط کرنا ہے، یعنی جو لوگ یہ عظیم بہتان اپنے پاس سے بنا کر لائے ہیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہوتا ہے، اس لیے ان سے معاملہ کرتے وقت ان کے ساتھ غیر مسلموں والا سلوک نہ کرو، کیونکہ یہ تمھی میں سے ہیں، ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں اور بات باہمی فساد تک جا پہنچے۔ جیسا کہ تجربے سے یہ بات ثابت بھی ہو گئی ہے کہ جب آپ نے عبد اللہ بن ابی کے مقابلے میں مدد کے لیے کہا تو قریب تھا کہ لوگ لڑ پڑتے، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ٹھنڈا نہ کرتے۔ اس لیے اللہ سبحانہ نے یہ کہہ کر کہ ”جو لوگ یہ بہتان لائے ہیں تمھی میں سے ایک گروہ ہیں“ ان کا بہتان اور جھوٹ بھی واضح فرمایا اور زیادہ تعاقب سے بھی منع فرما دیا۔
➌ { لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ:} یہ بات مخلص مسلمانوں کے اطمینان کے لیے فرمائی، جنھیں اس بہتان سے صدمہ پہنچا تھا، خصوصاً جن کا اس واقعہ سے براہ راست تعلق تھا، مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق، عائشہ، ان کی والدہ اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم۔ فرمایا، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے کئی لحاظ سے بہتر ہے:
(1) اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم کو جو رنج و غم پہنچا اور مسلسل ایک ماہ تک وہ شدید کرب میں مبتلا رہے، اس کرب پر صبر اور بہتان لگانے والوں سے درگزر کا یقینا اللہ کے ہاں بہت اجر ہے، فرمایا: «اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [الزمر: ۱۰] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے سے تمام بہتان لگانے والوں کی گردنیں تن سے جدا ہو سکتی تھیں۔ اس اجر کے علاوہ براء ت کی آیات نازل ہونے پر ان تمام حضرات کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنا صدمہ پہنچا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیات اترنے پر ہنس رہے تھے، اسی طرح عائشہ، ان کے والدین، صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم اور تمام مسلمانوں کو درجہ بدرجہ خوشی ہوئی۔
(2) ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کو اس واقعہ سے جو عزت ملی امت مسلمہ میں سے کسی کو حاصل نہ ہو سکی کہ ان کی بریت کے لیے قرآن مجید اترا، جو قیامت تک تمام دنیا میں پڑھا جاتا رہے گا اور قرآن نے ان کی جو براء ت بیان فرمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کی پاکیزہ زندگی اس کی سچی شہادت ہے کہ وہ ہر بہتان سے پاک ہیں۔ اس سے قرآن کا اعجاز بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت نہ ہوئی ہے، نہ ہو گی۔
(3) اس واقعہ میں یہ بھی خیر ہے کہ بہتان لگانے والے مخلص مسلمانوں پر حد لگنے سے وہ گناہ سے پاک ہو گئے اور منافقین کا نفاق ظاہر ہو گیا، جس سے آئندہ ان کے نقصانات سے بچنا آسان ہو گیا۔
(4) اس واقعہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نیک نفسی اور پاک طینتی بھی ثابت ہوتی ہے کہ مسلسل ایک ماہ کے پروپیگنڈے کے باوجود مخلص مسلمانوں میں سے صرف تین آدمی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنھم اس پروپیگنڈے کا شکار ہوئے، باقی تمام صحابہ اس بدگمانی سے پوری طرح محفوظ رہے۔ ازواج مطہرات میں سے کسی نے عائشہ رضی اللہ عنھا کی بدنامی میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا نے، جو عائشہ رضی اللہ عنھا کی برابر کی چوٹ تھیں، سوکن ہونے کے باوجود قسم کھا کر عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاک ہونے کی شہادت دی۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کا واقعہ بھی، جو آگے آ رہا ہے، صحابہ کے کریم النفس اور پاک طینت ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بہتان لگانے کے باوجود مسطح سے حسن سلوک ان کی خشیتِ الٰہی اور صبر کا بہترین نمونہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بہتان کے باوجود حسن سلوک اور ان کی عزت افزائی کرنا ان کے عالی نفس ہونے کی دلیل ہے۔
(5) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ ایک ماہ تک مسلسل کرب میں مبتلا نہ رہتے۔ اس سے اس غلو کی جڑ کٹ گئی جس میں اس سے پہلے یہود و نصاریٰ مبتلا ہوئے اور جس میں بعض نادان مسلمان بھی مبتلا ہیں۔
(6) اس واقعہ کے نتیجہ میں زنا اور قذف کی حد نازل ہوئی اور قیامت تک کے لیے مسلمان مردوں اور عورتوں کی عصمت و عفت بہتان طرازوں سے محفوظ کر دی گئی اور مسلم معاشرے میں بے حیائی کی اشاعت کا پوری طرح سد باب کر دیا گیا۔
➍ { لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ:} یعنی جس شخص نے اس فتنے میں جتنا حصہ لیا اسی قدر گناہ گار ہوا اور سزا کا مستحق ہوا۔ کسی نے اپنے پاس سے بہتان باندھ کر طوفان اٹھایا، کسی نے بہتان باندھنے والے کی زبانی موافقت کی، کوئی سن کر ہنس دیا، کسی نے خاموشی سے سن لیا، حالانکہ اسے انکار کرنا چاہیے تھا اور کسی نے سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یہ بات کہنے والوں کو اللہ نے پسند فرمایا، باقی سب کو تھوڑا بہت الزام دیا۔
➎ { وَ الَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ:} اس سے مراد رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ہے، جیسا کہ خود عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اسی کے متعلق فرمایا کہ اس کی تکلیف مجھے میرے گھر والوں کے متعلق پہنچی ہے، دیکھیے زیر تفسیر آیت کا پہلا فائدہ۔ بعض روایات میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، مگر صحیح بات یہی ہے کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ انھوں نے سن کر یہ بات آگے کر دی، ورنہ یہ بہتان گھڑنے والا عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ یہی ظالم لوگوں کو جمع کرتا اور نہایت چالاکی سے خود دامن بچا کر دوسروں کے منہ سے کہلوایا کرتا تھا۔ اس کے لیے عذاب عظیم اس لیے کہ دوسرے تمام لوگوں کا گناہ اس کے سرپر بھی تھا، کیونکہ اس نے اس کی ابتدا کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَنَّ فِي الإِْسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ] [مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ…: ۱۰۱۷] ”جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہو گا اور ان کا گناہ بھی جو اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“ عذاب عظیم کا مطلب یہ ہے کہ اسے توبہ کی توفیق نہیں ہو گی، وہ کفر پر فوت ہو گا اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہو گا، جو {”اَلدَّرْكُ الْأَسْفَلُ مِنَ النَّارِ“} ہے۔ [أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ] اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس جماعت کے دوسرے لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس طوفان کا چرچا (مسلمانوں میں سے) دو مرد کرنے والے تھے۔ مسطح بن اثاثہ، اور حسان بن ثابت اور تیسرا عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا جو کرید کرید کر پوچھتا۔ پھر اس پر حاشیے چڑھاتا۔ وہا اس طوفان کا بانی مبانی تھا اور ﴿وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ﴾ سے وہ اور حمنہ بنت جحش مراد ہیں۔ (عبد اللہ بن ابی منافق کے علاوہ تینوں پر حد قذف لگی تھی) [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ مسروق سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت (مشہور شاعر) حضرت عائشہؓ کے ہاں گئے اور یہ شعر سنایا حصان رزان ماتزن بریبہ۔۔ و نصبح غرثی من لحوم الغوافل (حضرت عائشہ) پاکدامن، عقلمند اور ہر شک و شبہ سے بالا ہیں۔ وہ بھولی بھالی معصوم عورتوں کا گوشت کھانے (ان پر تہمت لگانے یا ان کا گلہ کرنے) سے بھوکی ہی رہتی ہیں۔ یہ شعر سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: مگر (حسان) تم تو ایسے نہیں۔ میں (مسروق) نے حضرت عائشہؓ سے کہا۔ ”آپ ایسے شخص کو کیوں آنے دیتی ہیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَه﴾ الآیہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اسے اندھے پن سے زیادہ اور کیا عذاب ہو گا (حضرت حسان آخری عمر میں اندھے ہو گئے تھے) پھر یہ بھی کہا: کہ حسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کافروں کو ان کی ہجو کا) جواب دیتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
نیز عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت سیدنا ابوہریرہؓ سے گواہی چاہتے تھے۔ کہتے تھے: ابوہریرہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: حسان! تو اللہ کے رسول کی طرف سے کافروں کو جواب دے۔ یا اللہ! روح القدس سے حسان کی مدد کر۔ ابوہریرہؓ نے کہا: ”ہاں“ [بخاري۔ كتاب الصلوة باب الشعر فى المسجد]
[14] مندرجہ بالا حضرت عائشہؓ سے منقول مندرجہ بالا احادیث سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اس فتنہ کا بانی مبانی عبد اللہ بن ابی منافق تھا۔ اتفاق کی بات کہ اس غزوہ بن مصطلق میں جتنے زیادہ منافق شامل ہوئے تھے دوسرے کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔ انہی لوگوں نے ہی اس بہتان کا بھرپور پروپیگنڈہ کیا تھا۔ جس سے کئی سادہ لوح مخلص مسلمان بھی متاثر ہو گئے تھے۔ متاثر ہونے والے مسلمانوں کے نام جو کتب احادیث و سیر میں ملتے ہیں اور وہ تھے سیدنا حسان بن ثابتؓ، مسطح بن اثاثہؓ اور ام المومنین زینب بنت جحشؓ کی بہن حمنہ بنت جحشؓ یعنی روایت کے مطابق ان تینوں کو قذف کی حد بھی لگی تھی۔ لیکن منافقوں میں سے عبد اللہ بن ابی کے سوا کسی کا نام کتب تاریخ و سیر میں نہیں ملتا۔ نہ ہی منافقوں میں سے کسی کو حد لگی تھی۔ ان کا معاملہ بس اللہ کے سپرد تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آ گئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضائے حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جا کر میں نے قضائے حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آ کر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا، اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی }۔
اس وقت ام مسطح رضی اللہ عنہا نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم؟ میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ رضی اللہ عنہا کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہو گئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کر دیا، جوں توں کر کے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جا کر اور اچھی طرح معلوم تو کر لوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے؟ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ { کیا حال ہے؟ } میں نے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا }۔
ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت گھر کی خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ { عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ }۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سوجاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔
چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لیے اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا: { کون ہے؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا }۔
یہ سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آ گیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑ پڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔
میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کر دیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشیرف لائے اور سلام کر کے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہو سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر امابعد فرما کر فرمایا کہ { اے عائشہ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کر کے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔
میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل ابو یوسف علیہ السلام کا یہ قول ہے آیت «فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّـهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ» ۱؎ [12-يوسف:18] پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیر لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔
اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برأت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری برأت دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔
سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: { عائشہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت نازل فرما دی }۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برأت اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ» ۱؎ [24-النور:11] سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔
چنانچہ اسی وقت مسطح رضی اللہ عنہ کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو سوائے بہتری کے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2661] یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔
یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بے خبری سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتا دے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ رضی اللہ عنہا پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے (رضی اللہ عنہ)۔
ایک روایت میں ہے کہ { جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ رضی اللہ عنہا کے والد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو چکا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے پوچھا { یہ کیا حال ہے؟ } میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہو گیا ہوگا؟} جب آپ رضی اللہ عنہا کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ رضی اللہ عنہا نے انہیں سن کر فرمایا کہ ”یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل سے۔“ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کہتی ہو؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہاں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3388]
یہی وجہ تھی کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اماں صاحبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ”ام المؤمنین رضی اللہ عنہا آپ خوش ہو جائیے کہ آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت سے پیش آتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کی برأت آسمان سے نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4753]
ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہم اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میرا نکاح آسمان سے اترا“، اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے تھے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا ”یہ تو بتاؤ جب تم اس اونٹ پر سوار ہوئی تھیں تو تم نے کیا کلمات کہے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ۱؎ [3-آل عمران:173] اس پر وہ بول اٹھیں کہ ”تم نے مومنوں کا کلمہ کہا تھا۔“
اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ملعون ہے، ٹھیک قول یہی ہے گو کسی کسی نے کہا کہ مراد اس سے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ ہیں لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ چونکہ یہ قول بھی ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں بیان کر دیا ورنہ اس کے بیان میں بھی چنداں نفع نہیں کیونکہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ بڑے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی فضیلتیں اور بزرگیاں احادیث میں موجود ہیں۔
یہی تھے جو کافر شاعروں کی ہجو کے شعروں کا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ انہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ { تم کفار کی مذمت بیان کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213]
سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عزت کے ساتھ بٹھایا۔ حکم دیا کہ ان کیلئے گدی بچھا دو، جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہا انہیں کیوں آنے دیتی ہیں؟ ان کے آنے سے کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں سے جو تہمت کا والی ہے اس کیلئے بڑا عذاب ہے ‘ تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”اندھا ہونے سے بڑا عذاب اور کیا ہوگا“ یہ نابینا ہوگئے تھے، تو فرمایا ”شاید یہی عذاب عظیم ہو۔“ پھر فرمایا ”تمہیں نہیں خبر؟ یہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کے ہجو والے اشعار کا جواب دینے پر مقرر تھے۔“
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی مدح میں شعر پڑھا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہا پاکدامن، بھولی، تمام اوچھے کاموں سے، غیبت اور برائی سے پرہیز کرنے والی ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تم تو ایسے نہ تھے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4755]
ام المؤمنین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ لغو کلام نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہرگز نہیں لغو کلام تو شاعروں کی وہ بکواس ہے جو عورتوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔“
آپ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کیا قرآن میں نہیں کہ اس تہمت میں بڑا حصہ لینے والے کیلئے برا عذاب ہے؟ فرمایا ”ہاں لیکن کیا جو عذاب انہیں ہوا بڑا نہیں؟ آنکھیں ان کی جاتی رہیں، تلوار ان پر اٹھی، وہ تو کہئے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ رک گئے ورنہ عجب نہیں کہ ان کی نسبت یہ بات سن کر انہیں قتل ہی کر ڈالتے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقوله تعالى: {إنَّ الذين جاؤوا بالإفكِ}؛ أي: الكذب الشنيع، وهو رمي أم المؤمنين، {عصبةٌ منكُم}؛ أي: جماعة منتسِبون إليكم يا معشر المؤمنين، منهم المؤمن الصادقُ في إيمانه، لكنَّه اغترَّ بترويج المنافقين، ومنهم المنافق. {لا تَحْسَبوه شرًّا لكم بل هو خيرٌ لكم}: لِما تضمَّنَ ذلك تبرئةَ أمِّ المؤمنين ونزاهتَها والتنويهَ بذِكْرها، حتى تناول عمومُ المدح سائرَ زوجاتِ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، ولِما تضمَّن من بيان الآياتِ المضطرِّ إليها العباد، التي ما زال العملُ بها إلى يوم القيامة؛ فكل هذا خيرٌ عظيمٌ، لولا مقالَةُ أهل الإفك، لم يحصل بذلك ، وإذا أراد الله أمراً؛ جعل له سبباً، ولذلك جَعَلَ الخطابَ عامًّا مع المؤمنين كلهم، وأخبر أنَّ قَدْحَ بعضِهم ببعض كقدح في أنفسهم؛ ففيه أنَّ المؤمنين في توادِّهم وتراحُمِهم وتعاطُفِهم واجتماعِهم على مصالحهم كالجسدِ الواحدِ، والمؤمنُ للمؤمن كالبنيانِ يشدُّ بعضُه بعضاً؛ فكما أنَّه يكره أن يَقْدَحَ أحدٌ في عرضه؛ فليكرهْ مِنْ كلِّ أحدٍ أن يَقْدَحَ في أخيه المؤمن الذي بمنزلة نفسه، وما لم يصل العبدُ إلى هذه الحالة؛ فإنَّه من نَقْصِ إيمانه وعدم نُصحه. {لكلِّ امرئٍ منهم ما اكْتَسَبَ من الإثم}: وهذا وعيدٌ للذين جاؤوا بالإفك، وأنَّهم سيُعاقبون على ما قالوا من ذلك، وقد حدَّ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - منهم جماعةً، {والذي تَوَلَّى كِبْرَهُ}؛ أي: معظم الإفك، وهو المنافقُ الخبيثُ عبد الله بن أُبيّ بن سَلول لعنه الله. {له عذابٌ عظيمٌ}: ألا وهو الخلودُ في الدرك الأسفل من النار.