ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 96

اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ السَّیِّئَۃَ ؕ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَصِفُوۡنَ ﴿۹۶﴾
اس طریقے سے برائی کو ہٹا جو سب سے اچھا ہو، ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں۔ En
اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو۔ اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے
En
برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی واﻻ ہو، جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں ہم بخوبی واقف ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ آپ ان کے جواب میں بھی ایسی بات کہئے جو بہت اچھی ہو [93] جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں۔
[93] یعنی اگرچہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کے جیتے جی انھیں وہ عذاب چکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مگر ہنوز وہ وقت نہیں آیا ابھی آپ کے لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ آپ ان مشرکوں کے برے سلوک اور ناگوار اور تلخ باتوں کا جواب بھلائی سے دیں ابھی ان میں کئی لوگ ایسے موجود ہیں جن کے لئے ہدایت مقدور ہو چکی ہے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے اس لکا مطلب یہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم داعی حق کے لئے یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ خوشگوار نکلتا ہے اسی اصول کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ آپ برائی کا جواب بھلائی سے دیا کیجئے اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا دلی دوست بن جائے گا۔ [41: 34]
نیز یہ جملہ ایک ایسی آفاقی حقیقت (Universal Truth) ہے۔ جس کا ہر شخص، ہر حال میں اور ہر زمانہ میں تجربہ کر کے اس کے خوشگوار اثرات سے مستفید ہوتا رہا ہے اور ہو سکتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اصول جتنا مفید ہے اتنا ہی اس پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صاحب عزم انسان ہی اس پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔