ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 88

قُلۡ مَنۡۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۸﴾
کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی، اگر تم جانتے ہو؟ En
کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا
En
پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ پھر ان سے پوچھئے کہ اگر تم جانتے ہو۔۔۔۔ حکومت کس کی ہے؟ [85] اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں مل سکتی؟
[85] ﴿ملكوت﴾ کا لغوی معنی:۔
اس آیت میں ﴿ملكوت﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس میں ﴿مُلك ﴿مِلك ﴿مَلك تینوں معنی پائے جاتے ہیں۔ نیز یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے ہر چیز پر مکمل حاکمیت یا بادشاہی۔ ہر چیز کی پوری کی پوری ملکیت اور ہر چیز پر پورے کا پورا اختیار و تصرف۔ لہٰذا وہ جونسی بھی چیز کو چاہے اسے اپنی پناہ میں لے سکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ مگر جس چیز کو وہ پکڑے تو اسے نہ کوئی اس سے چھڑ سکتا ہے اور نہ ہی پکڑنے سے پیشتر پناہ دے سکتا ہے۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کے اعتراف سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس کو اللہ پکڑ لے اس کو نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے اور نہ چھڑا سکتا ہے۔ مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مشرکین، مکہ کے مشرکوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں: خدا جے پکڑے چھڑائے محمد محمد جے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا یعنی اگر اللہ کسی کو پکڑ لے تو اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم چھڑا لیں گے اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پکڑ لیں تو اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ اس شعر سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی پکڑنے اور لوگوں سے مواخذہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ ان کے یہ اختیارات اتنے وسیع ہیں کہ ان کے پکڑے ہوئے کو کوئی (یعنی اللہ تعالیٰ جیسا کہ شعر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر خدا کا لفظ استعمال ہوا ہے) بھی چھڑا نہیں سکتا۔ پھر جب اس شعر پر اعتراض کیا جاتا ہے تو اس کی ایسی توجیہ بیان کر کے اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو ”عذر گناہ، بد تر از گناہ“ کا مصداق ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا رد پیش کیا جا رہا ہے۔