ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 88

قُلۡ مَنۡۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۸﴾
کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی، اگر تم جانتے ہو؟ En
کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا
En
پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 88) ➊ {قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ: مُلْكٌ} اور {مِلْكٌ} دونوں کے مفہوم میں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے لفظ { مَلَكُوْتُ } استعمال کیا گیا ہے، یعنی ایسی کامل ملکیت اور کامل بادشاہی جس میں کوئی نقص نہ ہو۔ { بِيَدِهٖ } کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے۔
➋ { وَ هُوَ يُجِيْرُ وَ لَا يُجَارُ عَلَيْهِ: أَجَارَ يُجِيْرُ } (افعال) پناہ دینا، کسی کو ہر ایک سے بچا کر اپنی حفاظت میں لے لینا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: عرب کا دستور تھا کہ ان کا سردار کسی کو پناہ دے دیتا تو اس کی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی تھی اور کسی کو اس کے مقابلے میں پناہ دینے کا اختیار نہیں ہوتا تھا۔
➌ جب ان سے نیچے اور اوپر کے دونوں جہانوں کے مالک ہونے کا اقرار کروا لیا تو حکم دیا گیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے رب ہونے کا اعتراف کر واؤ، تاکہ اس میں وہ چیزیں آ جائیں جن کا ذکر ہوا ہے اور وہ بھی جن کا ذکر نہیں ہوا۔ چنانچہ فرمایا، کہہ دے وہ کون ہے کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل ملکیت اور کامل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے (یعنی جسے وہ پناہ دے دے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا) اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی (یعنی جسے وہ پکڑ لے اسے کوئی اپنی پناہ میں نہیں لے سکتا، نہ اس سے چھڑا سکتا ہے)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

88-1یعنی جس کی حفاظت کرنا چاہے اسے اپنی پناہ میں لے لے، کیا اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 88-2یعنی جس کو وہ نقصان پہنچانا چاہے، کیا کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی ہے کہ وہ اسے نقصان سے بچا لے اور اللہ کے مقابلے میں اپنی پناہ میں لے لے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ پھر ان سے پوچھئے کہ اگر تم جانتے ہو۔۔۔۔ حکومت کس کی ہے؟ [85] اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں مل سکتی؟
[85] ﴿ملكوت﴾ کا لغوی معنی:۔
اس آیت میں ﴿ملكوت﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس میں ﴿مُلك ﴿مِلك ﴿مَلك تینوں معنی پائے جاتے ہیں۔ نیز یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے ہر چیز پر مکمل حاکمیت یا بادشاہی۔ ہر چیز کی پوری کی پوری ملکیت اور ہر چیز پر پورے کا پورا اختیار و تصرف۔ لہٰذا وہ جونسی بھی چیز کو چاہے اسے اپنی پناہ میں لے سکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ مگر جس چیز کو وہ پکڑے تو اسے نہ کوئی اس سے چھڑ سکتا ہے اور نہ ہی پکڑنے سے پیشتر پناہ دے سکتا ہے۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کے اعتراف سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس کو اللہ پکڑ لے اس کو نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے اور نہ چھڑا سکتا ہے۔ مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مشرکین، مکہ کے مشرکوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں: خدا جے پکڑے چھڑائے محمد محمد جے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا یعنی اگر اللہ کسی کو پکڑ لے تو اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم چھڑا لیں گے اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پکڑ لیں تو اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ اس شعر سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی پکڑنے اور لوگوں سے مواخذہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ ان کے یہ اختیارات اتنے وسیع ہیں کہ ان کے پکڑے ہوئے کو کوئی (یعنی اللہ تعالیٰ جیسا کہ شعر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر خدا کا لفظ استعمال ہوا ہے) بھی چھڑا نہیں سکتا۔ پھر جب اس شعر پر اعتراض کیا جاتا ہے تو اس کی ایسی توجیہ بیان کر کے اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو ”عذر گناہ، بد تر از گناہ“ کا مصداق ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا رد پیش کیا جا رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ قُ٘لْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُ٘لِّ شَیْءٍ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔
﴿ وَّهُوَ یُجِیْرُ وہ شر سے پناہ دیتا ہے اپنے بندوں کو، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا یُجَارُ عَلَیْهِ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں۔
﴿ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُ٘لْ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُ٘سْحَرُوْنَ پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم انتقل إلى إقرارهم بما هو أعمُّ من ذلك كلِّه، فقال: {قل من بيدِهِ ملكوتُ كلِّ شيءٍ}؛ أي: ملك كل شيء من العالم العلويِّ والعالم السفليِّ، ما نبصِرُه وما لا نبصِرُه، والملكوتُ صيغةُ مبالغةٍ؛ بمعنى الملك. {وهو يُجيرُ}: عباده من الشرِّ ويدفعُ عنهم المكارِهَ ويحفَظُهم مما يضرُّهم، {ولا يُجارُ عليه}؛ أي: لا يقدر أحدٌ أن يجيرَ على الله ولا يدفَعَ الشرَّ الذي قدَّره الله، بل ولا يشفَعُ أحدٌ عنده إلاَّ بإذنه. {سيقولون لله}؛ أي: سيقرُّون أنَّ الله المالك لكل شيءٍ، المجيرُ الذي لا يُجار عليه، {قل} لهم حين يقرُّون بذلك ملزِماً لهم: {فأنَّى تُسْحَرونَ}؛ أي: فأين تذهبُ عقولُكم حيث عبدتم مَنْ علمتم أنَّهم لا مُلك لهم ولا قِسْطَ من الملك، وأنَّهم عاجزون من جميع الوجوه، وتركتُم الإخلاص للمالِكِ العظيم القادرِ المدبِّر لجميع الأمور؟ فالعقول التي دلَّتكم على هذا لا تكون إلاَّ مسحورةً، وهي بلا شكٍّ قد سَحَرَها الشيطانُ بما زيَّنَ لهم، وحسَّنَ لهم وقَلَبَ الحقائق لهم فَسَحَرَ عقولَهم، كما سَحَرَت السحرةُ أعينَ الناس.