تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ هُوَ يُجِيْرُ وَ لَا يُجَارُ عَلَيْهِ: ” أَجَارَ يُجِيْرُ “} (افعال) پناہ دینا، کسی کو ہر ایک سے بچا کر اپنی حفاظت میں لے لینا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”عرب کا دستور تھا کہ ان کا سردار کسی کو پناہ دے دیتا تو اس کی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی تھی اور کسی کو اس کے مقابلے میں پناہ دینے کا اختیار نہیں ہوتا تھا۔“
➌ جب ان سے نیچے اور اوپر کے دونوں جہانوں کے مالک ہونے کا اقرار کروا لیا تو حکم دیا گیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے رب ہونے کا اعتراف کر واؤ، تاکہ اس میں وہ چیزیں آ جائیں جن کا ذکر ہوا ہے اور وہ بھی جن کا ذکر نہیں ہوا۔ چنانچہ فرمایا، کہہ دے وہ کون ہے کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل ملکیت اور کامل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے (یعنی جسے وہ پناہ دے دے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا) اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی (یعنی جسے وہ پکڑ لے اسے کوئی اپنی پناہ میں نہیں لے سکتا، نہ اس سے چھڑا سکتا ہے)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم انتقل إلى إقرارهم بما هو أعمُّ من ذلك كلِّه، فقال: {قل من بيدِهِ ملكوتُ كلِّ شيءٍ}؛ أي: ملك كل شيء من العالم العلويِّ والعالم السفليِّ، ما نبصِرُه وما لا نبصِرُه، والملكوتُ صيغةُ مبالغةٍ؛ بمعنى الملك. {وهو يُجيرُ}: عباده من الشرِّ ويدفعُ عنهم المكارِهَ ويحفَظُهم مما يضرُّهم، {ولا يُجارُ عليه}؛ أي: لا يقدر أحدٌ أن يجيرَ على الله ولا يدفَعَ الشرَّ الذي قدَّره الله، بل ولا يشفَعُ أحدٌ عنده إلاَّ بإذنه. {سيقولون لله}؛ أي: سيقرُّون أنَّ الله المالك لكل شيءٍ، المجيرُ الذي لا يُجار عليه، {قل} لهم حين يقرُّون بذلك ملزِماً لهم: {فأنَّى تُسْحَرونَ}؛ أي: فأين تذهبُ عقولُكم حيث عبدتم مَنْ علمتم أنَّهم لا مُلك لهم ولا قِسْطَ من الملك، وأنَّهم عاجزون من جميع الوجوه، وتركتُم الإخلاص للمالِكِ العظيم القادرِ المدبِّر لجميع الأمور؟ فالعقول التي دلَّتكم على هذا لا تكون إلاَّ مسحورةً، وهي بلا شكٍّ قد سَحَرَها الشيطانُ بما زيَّنَ لهم، وحسَّنَ لهم وقَلَبَ الحقائق لهم فَسَحَرَ عقولَهم، كما سَحَرَت السحرةُ أعينَ الناس.