ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 80

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ وَ لَہُ اخۡتِلَافُ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے قبضہ میں رات اور دن کا بدلنا ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟ En
اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے، کیا تم سمجھتے نہیں
En
اور یہ وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اور رات دن کے ردوبدل کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا [81] ہے اور رات اور دن کا باری باری آتے رہنا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کیا تم کچھ بھی نہیں سمجھتے؟
[81] گردش لیل و نہار:۔
یعنی وہ اس دنیا میں ہر آن مردہ سے زندہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اگر تم سوچو تو اپنی ذات اور اپنے گرد و پیش میں بیسیوں ایسی مثالیں مل سکتی ہیں۔ نیز وہ اندھیرے میں سے اجالا نکالتا ہے اور اجالے کو پھر اندھیرے میں گم کر دیتا ہے۔ دن رات کا باری باری آنا، دنوں کی مقدار میں کمی شروع ہونا اور راتوں کا بڑھنے لگنا اور اس کے برعکس راتوں کا گھٹنے لگنا اور دنوں کا بڑھنے لگنا پھر موسموں کا تغیر و تبدل یہ سب چیزیں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پھر تمہیں یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ جو ہستی اس قدر قدرتوں کی مالک ہے تمہیں اپنے پاس اکٹھا کر کے حاضر کر لینے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین کی دو قسم کی گردشیں ہیں ایک روزانہ یعنی 24 گھنٹے میں اپنے محور کے گرد اور دوسری سالانہ سورج کے گرد ساڑھے چھیاسٹھ ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے۔ اسی سے دن رات وجود میں آتے ہیں اور موسموں میں تغیر و تبدل ہوتا ہے۔ یہ تو محض نظریہ کا فرق ہے جہاں تک اللہ کی قدرت کا تعلق ہے اس کا بہرحال ہر ایک کو اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔ بلکہ موجودہ نظریہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جس نے ہماری زمین اور اس سے بھی بہت بڑے اجرام فلکی کو اس طرح مصروف گردش بنا رکھا ہے جس سے وہ سر مو نہ تجاوز کرتے ہیں نہ کر سکتے ہیں۔