ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 4

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
اور وہی جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ En
اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں
En
جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور جو زکوٰۃ ادا کرتے [4] رہتے ہیں
[4] زکوٰۃ کا لغوی مفہوم:۔
زکوٰۃ (زکی۔ زکو) کے معنی بالیدگی، نشو و نما پانا، بڑھنا اور عمدہ ہونا ہے اور زکی کے معنی کسی چیز کو عمدہ بنانا، اس کی اصلاح کرنا اور آگے بڑھانا ہے۔ اور تزکیہ نفس کے معنی نفس کو روحانی آلائشوں، بیماریوں یا اخلاق رذیلہ سے پاک صاف کر کے اوصاف حمیدہ پیدا کرنا ہے جیسے ارشاد باری ہے: ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا یعنی جس نے اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لیا وہ کامیاب ہو گیا۔ اور زکوٰۃ کے مفہوم میں یہ سب باتیں شامل ہیں اور زکوٰۃ سے جو دو فائدے زکوٰۃ ادا کرنے والے کو پہنچتے ہیں وہ ہیں تطہیر مال اور تزکیہ نفس [9: 103] اور زکوٰۃ سے جو فائدہ معاشرہ کو پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے غریبوں اور محتاجوں کی امداد ہوتی ہے۔ طبقاتی تقسیم کم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے دولت کا بہاؤ امیر سے غریب کی طرف ہو جاتا ہے۔ اور فاعِلُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی ان کی مستقل اور پختہ عادت بن چکی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ جب جی چاہے ادا کر دیں اور جب نہ چاہے تو نہ کریں۔
زکوٰۃ اور اس کے فوائد:۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ زکوٰۃ تو مدینہ میں فرض ہوئی تھی۔ پھر اس مکی سورۃ میں ﴿فاعِلُوْنَ کیا معنی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا نصاب محل زکوٰۃ اشیاء اور شرح زکوٰۃ کا تعین یہ سب کچھ فی الواقع مدینہ میں ہوا تھا۔ مگر اس کی مشروعیت مکہ میں ہو چکی تھی۔ چنانچہ اکثر مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ و صدقات کا ذکر پایا جاتا ہے۔