(آیت 4){ وَالَّذِيْنَهُمْلِلزَّكٰوةِفٰعِلُوْنَ:} زکوٰۃ کا لفظ طہارت پر بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «قَدْاَفْلَحَمَنْتَزَكّٰى»[الأعلٰی: ۱۴]”بے شک وہ کامیاب ہو گیا جو پاک ہو گیا۔“ اور کسی چیز کے بڑھنے پر بھی، جیسا کہ کہا جاتا ہے: {”زَكَاالزَّرْعُ“} ”کھیتی بڑھ گئی۔“زکوٰۃارکانِ اسلام میں سے ایک رکن کا نام بھی ہے، جو مال میں سے ایک مخصوص حصے کی ادائیگی پر بولا جاتا ہے، کیونکہ اس عمل سے نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور مال میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ اس معنی کے مطابق {”لِلزَّكٰوةِ“} کا لام اسم فاعل کی تقویت کے لیے ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کا عمل کرنے والے ہیں۔(بقاعی) قرآن میں عام طور پر نماز اور زکوٰۃ کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔