34۔ اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کر لی تو پھر تو تم خسارے [40] میں ہی رہے۔
[40] دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آجاتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا:۔
حالانکہ وہ خود بھی ایک عام انسان ہی تھے۔ اور عام لوگوں کی طرح کھاتے پیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کے مطاع بنے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ عوام ان کی اطاعت کریں۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس لئے نہ تھا کہ انسان مطاع نہیں بن سکتا۔ بلکہ صرف اس لئے تھا کہ کہیں لوگ نبی کی دعوت قبول کر کے ہماری اطاعت کو ترک کر کے اس کی اطاعت نہ کرنے لگ جائیں۔ گویا اصل خطرہ انھیں اپنی سرداریوں کا تھا اور ان کے لئے تو یہ واقعی خسارہ کی بات تھی۔ لیکن لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ نبی کی اطاعت کر کے تم خسارہ میں رہو گے۔ گویا بشر ہونے کے باوجود ان کی اپنی اطاعت میں خسارے کی بات ان کے نزدیک خارج از بحث تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔