(آیت 34){ وَلَىِٕنْاَطَعْتُمْبَشَرًامِّثْلَكُمْ …:} سورۂ قمر میں اسی قوم کے صالح علیہ السلام کے متعلق تحقیر سے بھرے ہوئے الفاظ ملاحظہ کریں، کہا: «{ فَقَالُوْۤااَبَشَرًامِّنَّاوَاحِدًانَّتَّبِعُهٗۤاِنَّاۤاِذًالَّفِيْضَلٰلٍوَّسُعُرٍ (24) ءَاُلْقِيَالذِّكْرُعَلَيْهِمِنْۢبَيْنِنَابَلْهُوَكَذَّابٌاَشِرٌ }»[القمر: ۲۴، ۲۵]”پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں؟ یقینا ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔ کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔“ اپنے مال و جاہ پر مغرور سرداروں نے سرداری خطرے میں دیکھ کر دنیا اور آخرت کی ذلت قبول کر لی، مگر بے شمار نشان دیکھنے کے باوجود رسول پر ایمان لا کر تابع ہونا قبول نہ کیا۔ سرداری کی آفات میں سے یہ سب سے بڑی آفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے رکھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34-1وہ خسارہ ہی ہے کہ اپنے ہی جیسے انسان کو رسول مان کر تم اس کی فضیلت و برتری کو تسلیم کرلو گے، جب کہ ایک بشر، دوسرے بشر سے افضل کیوں کر ہوسکتا ہے۔ یہی وہ مغالطہ ہے جو مکرین بشریت رسول کے دماغوں میں رہا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جس بشر کو رسالت کے لیے چن لیتا ہے تو وہ اس وحی رسالت کی وجہ سے دوسرے تمام غیر نبی انسانوں سے شرف و فضل میں بہت بالا اور نہایت ارفع ہوجاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کر لی تو پھر تو تم خسارے [40] میں ہی رہے۔
[40] دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آجاتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا:۔
حالانکہ وہ خود بھی ایک عام انسان ہی تھے۔ اور عام لوگوں کی طرح کھاتے پیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کے مطاع بنے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ عوام ان کی اطاعت کریں۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس لئے نہ تھا کہ انسان مطاع نہیں بن سکتا۔ بلکہ صرف اس لئے تھا کہ کہیں لوگ نبی کی دعوت قبول کر کے ہماری اطاعت کو ترک کر کے اس کی اطاعت نہ کرنے لگ جائیں۔ گویا اصل خطرہ انھیں اپنی سرداریوں کا تھا اور ان کے لئے تو یہ واقعی خسارہ کی بات تھی۔ لیکن لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ نبی کی اطاعت کر کے تم خسارہ میں رہو گے۔ گویا بشر ہونے کے باوجود ان کی اپنی اطاعت میں خسارے کی بات ان کے نزدیک خارج از بحث تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَىِٕنْاَطَعْتُمْبَشَرًامِّؔثْلَكُمْاِنَّـكُمْاِذًالَّخٰسِرُوْنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔
اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوْۤااَبَشَرًامِّؔنَّاوَاحِدًانَّتَّبِعُهٗۤ١ۙاِنَّـاۤ٘اِذًالَّ٘فِیْضَلٰلٍوَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلْ٘قِیَالذِّكْرُعَلَیْهِمِنْۢبَیْنِنَابَلْهُوَكَذَّابٌاَشِرٌ ﴾ (القمر:54؍24۔25) ”بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولئِنْ أطعتُم بشراً مثلَكم إنَّكم إذاً لخاسرونَ}؛ أي: إن تبعتُموه وجعلتُموه لكم رئيساً وهو مثلُكم؛ إنَّكم لمسلوبو العقل نادمون على ما فعلتم! وهذا من العجب؛ فإنَّ الخسارَ والندامةَ حقيقةً لمن لم يتابِعْه ولم يَنْقَدْ له، والجهلُ والسفهُ العظيم لِمَنْ تكبَّرَ عن الانقياد لبشرٍ خصَّه الله بوحيِهِ، وفضَّلَه برسالته وابتُلي بعبادة الشجر والحجر، وهذا نظيرُ قولهم: {قالوا أبشراً منَّا واحداً نتَّبِعُهُ إنَّا إذاً لفي ضلال وسُعُرٍ. أألْقِيَ الذِّكْرُ عليهِ من بَيْنِنا بل هو كذابٌ أشِرٌ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔