103۔ اور جن کے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو [99] خسارے میں رکھا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
[99] میزان الاعمال کے نتائج:۔
ان دو آیات میں قیامت کے دن کا ایک دوسرا منظر سامنے لایا گیا ہے۔ جبکہ ہر شخص کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن کیا جائے گا اور پلڑا بھاری ہونے سے یہاں مراد نیکیوں والا پلڑا ہے۔ اور اصل چیز جو اس پلڑے کو بھاری اور وزن دار بنا سکتی ہے وہ کلمہ توحید اور اس پر استقامت ہے۔ پھر اسی کے مطابق اعمال صالح اس کی تائید مزید کریں گے۔ نیکیوں کا پلڑا جھکنے پر فوراً صاحب عمل کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ دنیا کے امتحان میں پاس ہو گیا ہے اور اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھ گیا اور برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا تو ایسے لوگ اس امتحان میں فیل اور ناکام ہو جائیں گے پھر ایک تو اس ناکامی پر انھیں افسوس اور حسرت ہو گی، دوسرے اس کے نتیجہ میں جہنم کا عذاب ان کے لئے پہلے ہی تیار ہو گا اور ان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہو گی کہ وہ اللہ کی توحید کے اقرار کے ساتھ شرک بھی کرتے رہے ہوں گے اور خسارہ کی صورت یہ ہو گی کہ وہ اچھے عمل بھی کرتے رہے، لعنت بھی کی مگر شرک کی آمیزش کی وجہ سے وہ اعمال ان کے کام بھی نہ آئے۔ الٹا جہنم کے عذاب سے دو چار ہونا پڑ گیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔