ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 64

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿٪۶۴﴾
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بلاشبہ اللہ ہی یقینا بڑا بے پروا، تمام تعریفوں والا ہے۔ En
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے۔ اور بےشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے۔
En
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے اور یقیناً اللہ وہی ہے بے نیاز تعریفوں واﻻ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ جو کچھ اسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے بے نیاز [93] اور حمد کے لائق ہے۔
[93] چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق و مالک ہے۔ لہٰذا ہر چیز اپنی ہستی اور اس کی بقاء تک کے لئے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوئی۔ جبکہ وہ خود کسی کا محتاج نہیں۔ تمام کائنات کے وجود سے پہلے بھی اس کی ہستی قائم و دوائم تھی اور وجود کے بعد بھی وہ اس سے بے نیاز ہے۔ لہٰذا کوئی اس کی حمد و ثنا بیان کرے یا نہ کرے اس سے اسے کچھ فرق نہیں پڑتا (البتہ حمد و ثنا بیان کرنے والے کی اپنی ذات کو ضرور فائدہ پہنچ جاتا ہے) کیونکہ وہ اپنی ذات میں خود ہی محمود ہے۔