ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 50

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۵۰﴾
تو وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بخشش اور باعزت رزق ہے۔ En
تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے
En
پس جو ایمان ﻻئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان ہی کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ سو جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کے لئے تو بخشش بھی ہے اور عزت کی روزی [78] بھی۔
[78] رزق کریم یعنی عزت کی روزی کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اہل جنت کو جو کچھ بھی کھانے پینے کو ملے گا اعلیٰ قسم کا ہو گا خواہ پھل ہوں، مشروبات ہوں یا دوسری اشیاء جن پر لفظ رزق کا اطلاق ہوتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ انھیں کھانے پینے کو دیا جائے گا وہ اعلیٰ قسم کے برتنوں میں اور عزت سے تختوں پر بٹھا کر پیش کیا جائے گا۔