یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾
اے لوگو! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بے شک ہم نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمھیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کر لیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔
En
لوگو اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مرجاتے ہیں اور بعض شیخ فالی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے
En
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ لوگو! اگر تمہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے [4] میں کوئی شک ہے تو (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو منقش بھی ہوتی ہے اور نقش کے بغیر بھی، تاکہ ہم تم پر (اپنی قدرت کو) واضح کر دیں۔ پھر ہم جس نطفہ کے متعلق چاہتے ہیں اسے رحموں میں ایک خاص مدت تک جمائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھرپور جوانی کو پہنچو۔ پھر تم میں سے کسی کی تو روح قبض کر لی جاتی ہے اور کسی کو بدترین عمر (انتہائی بڑھاپے) تک زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ وہ سب کچھ جانے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہوتی ہے۔ پھر جب ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ حرکت میں آئی اور بھول گئی اور ہر قسم کی پُر بہار [5] چیزیں اگانا شروع کر دیں۔
[4] توحید باری تعالیٰ پر دلائل:۔
مشرکین مکہ سے اولین جھگڑا تو ان کے بتوں کے خدائی اختیارات سے تعلق رکھتا تھا اور دوسرا جھگڑا یہ تھا کہ دین ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی رکھنے کے باوجود بعث بعد الموت کا یقین نہیں رکھتے تھے لہٰذا اب ایسے دلائل دیئے جا رہے ہیں جو بعث بعد الموت پر پوری رہنمائی کرتے ہیں۔ سب سے پہلی دلیل تو انسان کا اپنا وجود ہے۔ آدم کے پتلے کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے بنایا۔ مٹی بے جان چیز ہے۔ جب اس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی تو وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ پھر آگے توالد و تناسل سے آدم کی اولاد پھیلی۔ اب جو چیزیں یا غذائیں انسان کھاتا ہے۔ وہ سب زمین سے حاصل ہوتی ہیں۔ انھیں غذاؤں سے کہیں انسان کا گوشت بنتا ہے، کہیں ہڈیاں، کہیں عضلات بنتے ہیں پھر اسی غذا سے نطفہ بھی بنتا ہے اور اس نطفہ کے ایک قطرہ میں ہزاروں جاندار جرثومے ہوتے ہیں۔ اب دیکھئے زمین بھی بے جان چیز ہے اور یہ غذائیں انسان نے استعمال کیں وہ بھی بنے جاں تھیں۔ لیکن اللہ نے انہی بے جان چیزوں سے زندہ اور متحرک جراثیم پیدا کر دیئے۔ پھر ان ہزاروں جرثوموں میں کوئی ایک آدھ جرثومہ عورت کے خلیہ بیضہ سے ملتا ہے تو انسان کی تخلیق کا عمل شروع ہو جاتا ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اللہ کو منظور ہو۔ ورنہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے ملاپ کے بعد بھی حمل قرار نہیں پاتا۔ حالانکہ مرد اور عورت دونوں کے نطفہ میں پوری پوری صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
رحم مادر میں انسان کی تخلیق:۔
پھر رحم مادر کے تہ بہ تہ اندھیروں میں انسان کی جس طرح تخلیق ہوتی ہے اور جن جن مراحل سے وہ گزرتا ہے ان میں سے اللہ نے صرف ان مراحل کا ذکر فرمایا ہے جو بالعموم عام انسانوں کے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور اس مشاہدہ کی صورت اسقاط حمل ہے۔ نطفہ کے بعد جما ہوا خون، پھر اس کے بعد جما ہوا خون گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل ہوتا ہے۔ مگر اس پر کسی قسم کا کوئی نقش نہیں ہوتا۔ پھر اس گوشت کے لوتھڑے میں آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سب اعضاء کے نقوش بننے لگتے ہیں پھر اسی لوتھڑے میں ہڈیاں اور عضلات بنتے چلے جاتے ہیں تا آنکہ مقر رہ وقت کے بعد انسان کا بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ چاہے تو وہ لڑکا بن جاتا ہے اور چاہے تو لڑکی بن جاتا ہے اور سب امور اور مراحل اللہ کی زبردست نگرانی میں طے ہوتے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عورت کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو کہتا ہے، پروردگار! اب نطفہ پڑا۔ پروردگار اب یہ خون بن گیا۔ پروردگار اب یہ لوتھڑا بن گیا پھر جب اللہ انہی پیدائش کے متعلق فیصلہ کر دیتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت؟ بد بخت ہے یا نیک بخت؟ اس کی روزی کیا ہے؟ اور اس کی عمر کیا ہے؟ پھر ماں کے پیٹ میں ہی یہ سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔“ [بخاري كتاب الحيض۔ باب قول الله مخلقنه غير مخلقه]
بعثت بعد الموت پر سب سے بڑی دلیل انسان کی اپنی پیدائش ہے:۔
اب انسان کی غفلت شعاری کا یہ حال ہے کہ کوئی کارنامہ خواہ کتنا ہی محیر العقول ہو۔ اگر وہ عادت بن چکا ہو تو اس میں غور کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتا۔ مگر اس جیسا یا اس سے کم محیر العقول بات جو ابھی وقوع پذیر نہ ہوئی ہو اس کا فوراً انکار کر دیتا ہے۔ بعث بعد الموت کا واقعہ انسان کی انہی پیدائش سے کچھ زیادہ محیر العقول نہیں ہے۔ لیکن انسان کا انکار صرف اس بنا پر ہوتا ہے کہ وہ ابھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔ پھر یہ بات کیا کم حیرت انگیز ہے کہ جب انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو جوانی تک اس کے جسم، اس کی عقل اور اس کی قوت ہر چیز میں اضافہ ہوتا جاتا ہے لیکن جوانی کے بعد انسان وہی پہلی سی غذائیں بلکہ پہلے سے اچھی غذائیں کھاتا ہے۔ لیکن اس کی عقل اور قوت میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کا قد و قامت ایک مقر رہ حد تک جا کر رک جاتا ہے پھر اس میں انحطاط رو نما ہونے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اعضاء کے اضمحلال کے علاوہ اس کی عقل بھی ماؤف ہو جاتی ہے، سیکھی ہوئی باتیں بھول جاتا ہے اور بہکی بہکی بچوں کی سی باتیں کرنے لگتا ہے کیا یہ شواہد ایسے نہیں ہیں کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے نیز یہ کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہ اس کے کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پھر آخر بعث بعد الموت سے انکار کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔
[5] نباتات سے معاد پر دوسری دلیل:۔
یہ معاد یا بعث بعد الموت پر دوسری دلیل ہے۔ مختلف قسم کی نباتات اور اجناس کے بیج زمین میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں جنہیں ہواؤں نے یا پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا۔ اسی طرح بے شمار چیزوں کی جڑیں بھی جگہ جگہ پیوند خاک ہوئی پڑی تھیں۔ جن میں نباتاتی زندگی کا کوئی ظہور موجود نہ تھا۔ مگر جونہی ان پر بارش کے چھینٹے پڑے تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بے کار پڑا ہوا بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا اور یہ احیائے اموات کا ایسا عمل ہے۔ جسے ہر انسان موسم بہار میں اور موسم برسات میں خود مشاہدہ کرتا رہتا ہے یہی صورت انسان کے جسم کی ہے۔ جس کا بدن گل سڑ جاتا ہے اور اس کے بھی اٹھنے کا موسم نفخۂ صور ثانی ہے۔ جب یہ موسم آ جائے گا تو ہر انسان اپنے اپنے مدفن سے زندہ اٹھا کھڑا کر دیا جائے گا۔