تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مِنْ تُرَابٍ:} اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ حقیر مٹی کیا گیا ہے۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے اور سب لوگوں کے مٹی سے پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، جو اس بے جان اور قدموں میں پامال ہونے والی مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «{ الَّذِيْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ }» [السجدۃ: ۷، ۸] ”وہ (ذات پاک) جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش حقیر مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصہ سے بنائی۔“ زیر تفسیر آیت میں انسانی زندگی پر گزرنے والے سات مراحل ذکر ہوئے ہیں۔
➌ { ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ:} پھر پانی کے ایک قطرے سے۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ منی کے ایک قطرے میں کروڑوں جرثومے ہوتے ہیں، جن میں سے صرف ایک جرثومہ عورت کے بیضہ سے مل کر حمل کا حصہ بنتا ہے۔ یہ معاملہ مٹی سے بھی عجیب ہے کہ ایک سیال لیس دار خوردبینی ذرے سے ایک حسین و جمیل انسان پیدا ہو جاتا ہے، اسے پیدا کرنے والے کے لیے اسے دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ شیخ سعدی نے کہا ہے:
دھد نطفہ را صورتے چوں پری
کہ کرداست برآب صورت گری
”یعنی اللہ تعالیٰ ایک قطرے کو پری جیسی صورت عطا فرما دیتا ہے، بھلا اس کے سوا کون ہے جو پانی پر صورت گری کر سکتا ہے۔“
➍ { ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ: ” عَلَقَةٍ “} کا معنی جما ہوا خون بھی ہے اور جونک بھی، یعنی پھر وہ سیال مادہ جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس کی شکل جو نک سے ملتی جلتی ہے۔
➎ {ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ …:”مَضَغَ يَمْضَغُ “} (ف) چبانا۔ {” مُضْغَةٍ “} گوشت کا ٹکڑا جو چبایا جاتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب نطفہ عورت کے رحم میں قرار پکڑتا ہے تو چالیس دن اسی حالت میں اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، پھر وہ اللہ کے حکم سے سرخ رنگ کا جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ پھر وہ بدل کر {” مُضْغَةٍ “} یعنی گوشت کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس میں نہ کوئی نقش ہوتا ہے نہ شکل و صورت، پھر اس میں نقش اور شکل و صورت بننا شروع ہوتی ہے، چنانچہ اس کے سر، ہاتھوں، سینے، پیٹ، ٹانگوں، پاؤں اور باقی اعضاء کی شکل بنتی ہے، پھر کبھی شکل و صورت بننے سے پہلے عورت اسے گرا دیتی ہے اور کبھی شکل و صورت بننے کے بعد، جیسا کہ بچوں کے اسقاط کی صورت میں مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے فرمایا: «{ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ }» کہ جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی۔“ سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴) میں بھی یہ تفصیل مذکور ہے۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِيْ بَطْنِ أُمِّهٖ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا وَأَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ يَكُوْنُ عَلَقَةً مِثْلَهٗ ثُمَّ يَكُوْنُ مُضْغَةً مِثْلَهٗ ذٰلِكَ ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيُؤْذَنُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَیَکْتُبُ رِزْقَهٗ وَ أَجَلَهُ وَعَمَلَهٗ وَ شَقِيٌّ أَمْ سَعِيْدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيْهِ الرُّوْحُ] [بخاري، التوحید، باب: «ولقد سبقت کلمتنا …» : ۷۴۵۴۔ مسلم: ۲۶۴۳] ”تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ کی صورت میں) چالیس دن اور چالیس راتیں جمع ہوتی رہتی ہے۔ پھر وہ اتنی دیر تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر اتنی دیر ہی مضغہ رہتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتاہے، تو اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کا رزق اور اس کی مدت اور اس کا عمل اور یہ بات کہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ دیتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔“
➏ { لِنُبَيِّنَ لَكُمْ:} تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں کہ ہم جب پانی کے ایک قطرے کو پوری شکل و صورت والا گوشت کا ٹکڑا بنا دیتے ہیں تو ہمارے لیے تمھیں دوبارہ بنانا اور قبروں سے نکال کر زندہ کرکے حساب کتاب لینا کیا مشکل ہے۔
➐ { وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ …:} یعنی جسے ہم چاہتے ہیں ساقط ہونے سے محفوظ کرکے رحم میں قائم رکھتے ہیں۔ {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “ } یعنی کم از کم چھ ماہ اور زیادہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ یہ ہماری مرضی پر موقوف ہے کہ ہم نے اسے کتنی دیر رحم میں رکھنا ہے۔ {” ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا “} پھر ہم اسے بچے کی صورت میں شکم مادر سے نکالتے ہیں۔
➑ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ …: ” ثُمَّ “} کے بعد کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے، یعنی پھر ہم تمھیں بچہ ہونے کی حالت میں ماں کے پیٹ سے نکالتے ہیں جو اپنے بدن، کانوں، آنکھوں، قوت اور عقل میں کمزور ہوتا ہے۔ {” ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ “} پھر اللہ تعالیٰ اسے آہستہ آہستہ قوت بخشتا ہے، اس کے والدین دن رات اس پر شفقت اور اس کی خدمت کرتے ہیں، وہ بڑھتا جاتا ہے، تاکہ بچپن، لڑکپن سے گزرتا ہوا اپنی پوری قوت کو پہنچ کر جوانی کا حسن و کمال حاصل کرلے۔
➒ {وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى …:} یعنی تم میں سے کچھ وہ ہیں جو جوانی کو پہنچ کر یا اس سے پہلے فوت کر لیے جاتے ہیں۔ {” وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا “} یہ ساتواں مرحلہ ہے، یعنی کچھ وہ ہیں جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، یعنی انتہائی بڑھاپا جس میں عقل و فکر اور بدن کی تمام قوتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص کسی وقت بہت بڑا عالم تھا اسے کچھ یاد نہیں رہتا، نہ حافظہ باقی رہتا ہے اور نہ عقل کام کرتی ہے۔ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور عقل و فکر سے عاری ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ }» [یٰسٓ: ۶۸] ”اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کر دیتے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَيْبَةً }» [الروم: ۵۴] ”اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارذل العمر سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، جیسا کہ عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے جس طرح معلم لڑکوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرتے تھے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَ أَعُوْذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب ما یتعوذ من الجبن: ۲۸۲۲] ”اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ مصعب بن سعد کی روایت میں {” اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ “} کے بعد {” وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ “} بھی ہے کہ میں بخل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [بخاري، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر…: ۶۳۷۴]
➓ {وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً …: ” اهْتَزَّتْ “ ”هَزَّ يَهُزُّ هَزًّا“} حرکت دینا، ہلانا۔ {”اِهْتَزَّ يَهْتَزُّ اِهْتِزَازًا“} (افتعال) حرکت کرنا، کھیتی کا لہلہانا۔ {” رَبَتْ “ ”رَبَا يَرْبُوْ“} (ن) بڑھنا، پھولنا۔ یہ موت کے بعد زندگی کی دوسری دلیل ہے۔ مختلف قسم کی نباتات اور اجناس کے بیج زمین میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں، جنھیں ہواؤں نے یا پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا۔ اسی طرح بے شمار چیزوں کی جڑیں بھی جگہ جگہ مٹی میں دفن ہوتی ہیں، جن میں زندگی کا نشان تک نہیں ہوتا، مگر جوں ہی ان پر بارش کے چھینٹے پڑے تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بے کار پڑا ہوا بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ مردوں کے زندہ ہونے کا ایسا عمل ہے جسے ہر انسان موسم بہار میں اور موسم برسات میں خود مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ یہی صورت انسان کے جسم کی ہے، اس کے اٹھنے کا بھی ایک موسم ہے، جو صور کا دوسرا نفخہ ہے، جب یہ موسم آ جائے گا تو ہر انسان اپنے دفن ہونے کی جگہ سے زندہ اٹھا کر کھڑا کر دیا جائے گا۔ (تیسیر القرآن)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الٰہی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں کوئی صورت و شبیہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ اسے صورت عنایت فرماتا ہے سر، ہاتھ، سینہ، پیٹ، رانیں، پاؤں اور کل اعضاء بنتے ہیں۔ کبھی اس سے پہلے ہی حمل ساقط ہو جاتا ہے، کبھی اس کے بعد بچہ گر پڑتا ہے۔ یہ تو تمہارے مشاہدے کی بات ہے۔ اور کبھی ٹھہرجاتا ہے۔
جب اس لوتھڑے پر چالیس دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اسے ٹھیک ٹھاک اور درست کرکے اس میں روح پھونک دیتا ہے اور جیسے اللہ چاہتا ہو خوبصورت بدصورت مرد عورت بنا دیا جاتا ہے رزق، اجل، نیکی، بدی اسی وقت لکھ دی جاتی ہے۔
عبداللہ فرماتے ہیں نطفے کے رحم میں ٹھہرتے ہی فرشتہ پوچھتا ہے کہ ”اے اللہ یہ مخلوق ہو گا یا نہیں؟“ اگر انکار ہوا تو وہ جمتا ہی نہیں۔ خون کی شکل میں رحم اسے خارج کر دیتا ہے اور اگر حکم ملا کہ اس کی پیدائش کی جائے گی تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ نیک ہو گا یا بد؟ اجل کیا ہے؟ اثر کیا ہے؟ کہاں مرے گا؟ پھر نطفے سے پوچھا جاتا ہے تیرے رب کون ہے وہ کہتا ہے اللہ!، پوچھا جاتا ہے رازق کون ہے؟ کہتا ہے کہ اللہ!۔
پھر فرشتے سے کہا جاتا ہے تو جا اور اصل کتاب میں دیکھ لے وہیں اس کا حال مل جائے گا پھر وہ پیدا کیا جاتا ہے لکھی ہوئی زندگی گزارتا ہے مقدر کا رزق پاتا ہے مقررہ جگہ چلتا پھرتا ہے پھر موت آتی ہے اور دفن کیا جاتا ہے جہاں دفن ہونا مقدر ہے۔ پھر عامر رحمتہ اللہ علیہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی مضغہ ہونے کے بعد چوتھی پیدائش کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور ذی روح بنتا ہے۔
پھر بچہ ہو کردنیا میں تولد ہوتا ہے نہ عقل ہے نہ سمجھ۔ کمزور ہے اور تمام اعضاء ضعیف ہیں پھر اللہ تعالیٰ بڑھاتا رہتا ہے ماں باپ کو مہربان کر دیتا ہے۔ دن رات انہیں اس کی فکر رہتی ہے تکلیفیں اٹھا کر پرورش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پروان چڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ عنفوان جوانی کا زمانہ آتا ہے خوبصورت تنومند ہو جاتا ہے بعض تو جوانی میں ہی چل بستے ہیں بعض بوڑھے پھونس ہو جاتے ہیں کہ پھر عقل وخرد کھوبیٹھتے ہیں اور بچوں کی طرح ضعیف ہو جاتے ہیں۔ حافظہ، فہم، فکر سب میں فتور پڑ جاتا ہے علم کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» ۱؎ [30-الروم:54] ’ اللہ نے تمہیں کمزوری میں پیدا کیا پھر زور دیا پھر اس قوت وطاقت کے بعد ضعف اور بڑھاپا آیا جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے پورے علم والا اور کامل قدرت والا ہے ‘۔
مسند حافظ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بچہ جب تک بلوغت کو نہ پہنچے اس کی نیکیاں اس کے باپ کے یا ماں باپ کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور برائی نہ اس پر ہوتی ہے نہ ان پر۔ بلوغت پر پہنچتے ہی قلم اس پر چلنے لگتا ہے اس کے ساتھ کے فرشتوں کو اس کی حفاظت کرنے اور اسے درست رکھنے کا حکم مل جاتا ہے۔ جب وہ اسلام میں ہی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین بلاؤں سے نجات دے دیتا ہے جنون اور جذام سے اور برص سے، جب اسے اللہ تعالیٰ کے دین پر بچاس سال گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے جب وہ ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی کے کاموں کی طرف اس کی طبعیت کا پورا میلان کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف راغب کر دیتا ہے جب وہ ستر برس کا ہو جاتا ہے تو آسمانی فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی برس کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں تو لکھتا ہے لیکن برائیوں سے تجاوز فرما لیتا ہے۔ جب وہ نوے برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے اس کے گھرانے والوں کے لیے اسے سفارشی اور شفیع بنا دیتا ہے وہ اللہ کے ہاں امین اللہ کا خطاب پاتا ہے اور زمین میں اللہ کے قیدیوں کی طرح رہتا ہے جب بہت بڑی ناکارہ عمر کو پہنچ جاتا ہے جب کہ علم کے بعد بے علم ہو جاتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی صحت اور ہوش کے زمانے میں نیکیاں کیا کرتا تھا سب اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھی جاتی ہیں اور اگر کوئی برائی اس سے ہو گئی تو وہ نہیں لکھی جاتی } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3678:ضعیف]
یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے باوجود اس کے اسے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ اپنی مسند میں لائے ہیں موقوفاً بھی اور مرفوعاً بھی۔ انس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے اور عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے از فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۱؎ [مسند احمد:89/2:ضعیف]
پھر انس رضی اللہ عنہ سے ہی دوسری سند سے مرفوعاً یہی وارد کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:217/3:ضعیف]
حافظ ابوبکر بن بزار رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسے بہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوع میں بیان کیا ہے۔ ۱؎ [مسند بزار:3587:ضعیف] (اور مسلمانوں پر رب کی مہربانی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ ہماری عمر میں نیکی کے ساتھ برکت دے آمین)
یہی وہ مردہ زمین ہے جو کل تک خاک اڑا رہی تھی آج دل کا سرور اور آنکھوں کا نور بن کر اپنی زندگی کی جوانی کامزا دی رہی ہے۔ پھولوں کے چھوٹے چھوٹے پودے دماغ کو مخزن عطار بنا دیتے ہیں دور سے نسیم کے ہلکے ہلکے جھونکے کتنے خوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔ سچ ہے خالق، مدبر، اپنی چاہت کے مطابق کرنے والا، خود مختیار حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور اس کی نشانی مردہ زمین کا زندہ ہونا مخلوق کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر انقلاب پر ہر قلب ماہیت پر قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے۔ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، فرماتا ہے ہو جا، پھر ناممکن ہے کہ وہ کہتے ہی ہو نہ جائے جیسے کہ آیت میں ہے «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-یس:82]۔
یاد رکھو قیامت قطعا بلا شک و شبہ آنے والی ہی ہے اور قبروں کے مردوں کو وہ قدرت والا اللہ زندہ کر کے اٹھانے والا ہے وہ عدم سے وجود میں لانے پر قادر تھا اور ہے اور رہے گا۔
سورۃ یاسین میں بھی بعض لوگوں کے اس اعتراض کا ذکر کر کے انہیں ان کی پہلی پیدائش یاد دلا کر قائل کیا گیا ہے ساتھ ہی سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی قلب ماہیت کو بھی دلیل میں پیش فرمایا گیا ہے اور آیتیں بھی اس بارے میں بہت سی ہیں۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور قیامت قطعا بے شبہ آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے دوبارہ زندہ کرے گا وہ یقیناً جنتی ہے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {يا أيُّها الناس إن كنتُم في ريبٍ من البعث}؛ أي: شكٍّ واشتباه وعدم علم بوقوعه، مع أن الواجب عليكم أن تصدِّقوا ربَّكم وتصدِّقوا رسلَه في ذلك، ولكن إذا أبيتُم إلاَّ الرَّيْب؛ فهاكم دليلين عقليَّين تشاهدونهما، كلُّ واحدٍ منهما يدلُّ دلالةً قطعيةً على ما شككتُم فيه، ويُزيل عن قلوبكم الريب:
أحدهما: الاستدلال بابتداء خَلْق الإنسان، وأنَّ الذي ابتدأه سيعيدُه، فقال فيه: {فإنَّا خَلَقْناكم من تُرابٍ}: وذلك بخَلْق أبي البشر آدم عليه السلام، {ثمَّ من نطفةٍ}؛ أي: منيٍّ، وهذا ابتداء أول التخليق، {ثم من عَلَقَةٍ}؛ أي: تنقِلبُ تلك النطفة بإذن الله دماً أحمر، {ثم من مُضْغَةٍ}؛ أي: ينتقل الدم مضغةً؛ أي: قطعة لحم بقدر ما يُمضغ، وتلك المضغةُ تارة تكون {مخلَّقة}؛ أي: مصوَّر منها خلق الآدميِّ. وتارة {غير مُخَلَّقة}: بأن تقذِفَها الأرحام قبل تخليقها، {لنبيِّنَ لكم}: أصل نشأتكم؛ مع قدرتِهِ تعالى على تكميل خَلْقِه في لحظة واحدة، ولكن ليُبَيِّنَ لنا كمال حكمتِهِ وعظيم قدرتِهِ وسعة رحمتِهِ.
{وَنُقِرُّ في الأرحام ما نشاءُ إلى أجل مسمًّى}: [أي:] ونُقِرُّ؛ أي: نبقي في الأرحام من الحَمْل الذي لم تقذِفْه الأرحامُ ما نشاء إبقاءه إلى أجل مسمّى، وهو مدَّة الحمل، {ثم نخرِجُكم}: من بطون أمهاتكم {طفلاً}: لا تعلمون شيئاً، وليس لكم قدرةٌ، وسخَّرنا لكم الأمهاتِ، وأجْرَيْنا لكم في ثديها الرزق، ثم تُنَقَّلونَ طوراً بعد طورٍ حتى تبلغوا أشُدَّكُم، وهو كمال القوة والعقل. {ومنكُم من يُتَوَفَّى}: من قبل أن يبلغَ سنَّ الأشُدِّ، ومنكُم مَنْ يتجاوزُه فيردُّ {إلى أرذل العمر}؛ أي: أخسِّه وأرذلِهِ، وهو سنُّ الهرم والتخريف، الذي به يزول العقلُ ويضمحلُّ كما زالت باقي القوة وضعفت، {لِكَيْلا يعلمَ من بعدِ علم شيئاً}؛ أي: لأجل أن لا يَعْلَمَ هذا المعمَّر شيئاً مما كان يعلمه قبل ذلك، وذلك لضعف عقله؛ فقوة الآدميِّ محفوفةٌ بضعفين: ضعفُ الطفوليَّة ونقصُها، وضعف الهرم ونقصُه؛ كما قال تعالى: {الله الذي خلقكم من ضَعْفٍ ثم جعل من بعد ضعف قُوَّةً ثم جَعَلَ من بعد قُوَّةٍ ضَعْفاً وشَيْبَةً يَخْلُقُ ما يشاءُ وهو العليم القدير}.
والدليل الثاني: إحياء الأرض بعد موتها، فقال الله فيه: {وترى الأرض هامدةً}؛ أي: خاشعة مغبرَّةً لا نباتَ فيها ولا خُضرة، {فإذا أنْزَلْنا عليها الماء اهتزَّتْ}؛ أي: تحرَّكت بالنبات، {وَرَبَتْ}؛ أي: ارتفعت بعد خُشوعها، وذلك لزيادة نباتها، {وأنبتتْ من كلِّ زوج}؛ أي: صنف من أصناف النبات {بَهيج}؛ أي: يُبْهجُ الناظرين ويسرُّ المتأملين.