ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 5

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾
اے لوگو! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بے شک ہم نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمھیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کر لیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔ En
لوگو اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مرجاتے ہیں اور بعض شیخ فالی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے
En
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ …:} یعنی اگر تمھیں آخرت کو دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے تو اسے دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی پیدائش کی ابتدا پر غور کرو، اس سے تم جان لو گے کہ جس نے تمھیں پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوسری دفعہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد نباتات پیدا کرتا ہے وہ تمھیں تمھاری قبروں سے نکالنے پر بھی قادر ہے۔
➋ { مِنْ تُرَابٍ:} اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ حقیر مٹی کیا گیا ہے۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے اور سب لوگوں کے مٹی سے پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، جو اس بے جان اور قدموں میں پامال ہونے والی مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «{ الَّذِيْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ [السجدۃ: ۷، ۸] وہ (ذات پاک) جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش حقیر مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصہ سے بنائی۔ زیر تفسیر آیت میں انسانی زندگی پر گزرنے والے سات مراحل ذکر ہوئے ہیں۔
➌ { ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ:} پھر پانی کے ایک قطرے سے۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ منی کے ایک قطرے میں کروڑوں جرثومے ہوتے ہیں، جن میں سے صرف ایک جرثومہ عورت کے بیضہ سے مل کر حمل کا حصہ بنتا ہے۔ یہ معاملہ مٹی سے بھی عجیب ہے کہ ایک سیال لیس دار خوردبینی ذرے سے ایک حسین و جمیل انسان پیدا ہو جاتا ہے، اسے پیدا کرنے والے کے لیے اسے دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ شیخ سعدی نے کہا ہے:
دھد نطفہ را صورتے چوں پری
کہ کرداست برآب صورت گری
یعنی اللہ تعالیٰ ایک قطرے کو پری جیسی صورت عطا فرما دیتا ہے، بھلا اس کے سوا کون ہے جو پانی پر صورت گری کر سکتا ہے۔
➍ { ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ: عَلَقَةٍ } کا معنی جما ہوا خون بھی ہے اور جونک بھی، یعنی پھر وہ سیال مادہ جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس کی شکل جو نک سے ملتی جلتی ہے۔
➎ {ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ …:مَضَغَ يَمْضَغُ } (ف) چبانا۔ { مُضْغَةٍ } گوشت کا ٹکڑا جو چبایا جاتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: جب نطفہ عورت کے رحم میں قرار پکڑتا ہے تو چالیس دن اسی حالت میں اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، پھر وہ اللہ کے حکم سے سرخ رنگ کا جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ پھر وہ بدل کر { مُضْغَةٍ } یعنی گوشت کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس میں نہ کوئی نقش ہوتا ہے نہ شکل و صورت، پھر اس میں نقش اور شکل و صورت بننا شروع ہوتی ہے، چنانچہ اس کے سر، ہاتھوں، سینے، پیٹ، ٹانگوں، پاؤں اور باقی اعضاء کی شکل بنتی ہے، پھر کبھی شکل و صورت بننے سے پہلے عورت اسے گرا دیتی ہے اور کبھی شکل و صورت بننے کے بعد، جیسا کہ بچوں کے اسقاط کی صورت میں مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے فرمایا: «{ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ کہ جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی۔ سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴) میں بھی یہ تفصیل مذکور ہے۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِيْ بَطْنِ أُمِّهٖ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا وَأَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ يَكُوْنُ عَلَقَةً مِثْلَهٗ ثُمَّ يَكُوْنُ مُضْغَةً مِثْلَهٗ ذٰلِكَ ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيُؤْذَنُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَیَکْتُبُ رِزْقَهٗ وَ أَجَلَهُ وَعَمَلَهٗ وَ شَقِيٌّ أَمْ سَعِيْدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيْهِ الرُّوْحُ] [بخاري، التوحید، باب: «ولقد سبقت کلمتنا …» : ۷۴۵۴۔ مسلم: ۲۶۴۳] تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ کی صورت میں) چالیس دن اور چالیس راتیں جمع ہوتی رہتی ہے۔ پھر وہ اتنی دیر تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر اتنی دیر ہی مضغہ رہتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتاہے، تو اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کا رزق اور اس کی مدت اور اس کا عمل اور یہ بات کہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ دیتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔
➏ { لِنُبَيِّنَ لَكُمْ:} تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں کہ ہم جب پانی کے ایک قطرے کو پوری شکل و صورت والا گوشت کا ٹکڑا بنا دیتے ہیں تو ہمارے لیے تمھیں دوبارہ بنانا اور قبروں سے نکال کر زندہ کرکے حساب کتاب لینا کیا مشکل ہے۔
➐ { وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ …:} یعنی جسے ہم چاہتے ہیں ساقط ہونے سے محفوظ کرکے رحم میں قائم رکھتے ہیں۔ { اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى } یعنی کم از کم چھ ماہ اور زیادہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ یہ ہماری مرضی پر موقوف ہے کہ ہم نے اسے کتنی دیر رحم میں رکھنا ہے۔ { ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا } پھر ہم اسے بچے کی صورت میں شکم مادر سے نکالتے ہیں۔
➑ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ …: ثُمَّ } کے بعد کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے، یعنی پھر ہم تمھیں بچہ ہونے کی حالت میں ماں کے پیٹ سے نکالتے ہیں جو اپنے بدن، کانوں، آنکھوں، قوت اور عقل میں کمزور ہوتا ہے۔ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ } پھر اللہ تعالیٰ اسے آہستہ آہستہ قوت بخشتا ہے، اس کے والدین دن رات اس پر شفقت اور اس کی خدمت کرتے ہیں، وہ بڑھتا جاتا ہے، تاکہ بچپن، لڑکپن سے گزرتا ہوا اپنی پوری قوت کو پہنچ کر جوانی کا حسن و کمال حاصل کرلے۔
➒ {وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى …:} یعنی تم میں سے کچھ وہ ہیں جو جوانی کو پہنچ کر یا اس سے پہلے فوت کر لیے جاتے ہیں۔ { وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا } یہ ساتواں مرحلہ ہے، یعنی کچھ وہ ہیں جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، یعنی انتہائی بڑھاپا جس میں عقل و فکر اور بدن کی تمام قوتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص کسی وقت بہت بڑا عالم تھا اسے کچھ یاد نہیں رہتا، نہ حافظہ باقی رہتا ہے اور نہ عقل کام کرتی ہے۔ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور عقل و فکر سے عاری ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [یٰسٓ: ۶۸] اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کر دیتے ہیں۔ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَيْبَةً [الروم: ۵۴] اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارذل العمر سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، جیسا کہ عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے جس طرح معلم لڑکوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرتے تھے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَ أَعُوْذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب ما یتعوذ من الجبن: ۲۸۲۲] اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مصعب بن سعد کی روایت میں { اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ } کے بعد { وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ } بھی ہے کہ میں بخل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [بخاري، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر…: ۶۳۷۴]
➓ {وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً …: اهْتَزَّتْ هَزَّ يَهُزُّ هَزًّا} حرکت دینا، ہلانا۔ {اِهْتَزَّ يَهْتَزُّ اِهْتِزَازًا} (افتعال) حرکت کرنا، کھیتی کا لہلہانا۔ { رَبَتْ رَبَا يَرْبُوْ} (ن) بڑھنا، پھولنا۔ یہ موت کے بعد زندگی کی دوسری دلیل ہے۔ مختلف قسم کی نباتات اور اجناس کے بیج زمین میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں، جنھیں ہواؤں نے یا پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا۔ اسی طرح بے شمار چیزوں کی جڑیں بھی جگہ جگہ مٹی میں دفن ہوتی ہیں، جن میں زندگی کا نشان تک نہیں ہوتا، مگر جوں ہی ان پر بارش کے چھینٹے پڑے تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بے کار پڑا ہوا بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ مردوں کے زندہ ہونے کا ایسا عمل ہے جسے ہر انسان موسم بہار میں اور موسم برسات میں خود مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ یہی صورت انسان کے جسم کی ہے، اس کے اٹھنے کا بھی ایک موسم ہے، جو صور کا دوسرا نفخہ ہے، جب یہ موسم آ جائے گا تو ہر انسان اپنے دفن ہونے کی جگہ سے زندہ اٹھا کر کھڑا کر دیا جائے گا۔ (تیسیر القرآن)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی نطفے (قطرہ منی) سے چالیس روز بعد عَلَقَۃٍ گاڑھا خون اور عَلَقَۃٍ سے مُضْغَۃٍ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے مُخَلَّقَۃٍ سے، وہ بچہ مراد ہے جس کی پیدائش واضح اور شکل و صورت نمایاں ہوجائے، اس کے برعکس، جس کی شکل و صورت واضح نہ ہو، نہ اس میں روح پھونکی جائے اور قبل از وقت ہی وہ ساقط ہوجائے۔ صحیح حدیث میں بھی رحم مادر کی ان کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نطفہ چالیس دن کے بعد علقۃ (گاڑھا خون) بن جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد یہ مضغۃ (لوتھرڑا یا گوشت کی بوٹی) کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے یعنی چار مہینے کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور بچہ ایک واضح شکل میں ڈھل جاتا ہے (صحیح بخاری) 5۔ 2 یعنی اس طرح ہم اپنا کمال قدرت و تخلیق تمہارے لئے بیان کرتے ہیں۔ 5۔ 3 یعنی جس کو ساقط کرنا نہیں ہوتا۔ 5۔ 4 یعنی عمر اشد سے پہلے ہی۔ عمر اشد سے مراد بلوغت یا کمال عقل و کمال قوت وتمیز کی عمر، جو 30 سے 40 سال کے درمیان عمر ہے۔ 5۔ 5 اس سے مراد بڑھاپے میں قوائے انسانی میں ضعف و کمزوری کے ساتھ عقل و حافظہ کا کمزور ہوجانا اور یادداشت اور عقل و فہم میں بچے کی طرح ہوجانا، جسے سورة یٰسین میں (وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ) 36۔ یس:68) اور سورة تین میں (ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ) 95۔ التین:5) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 5۔ 6 یہ احیائے موتی (مردوں کے زندہ کرنے) پر اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل، جو مذکورہ ہوئی، یہ تھی کہ جو ذات ایک حقیر قطرہ پانی سے اس طرح ایک انسانی پیکر تراش سکتا ہے اور ایک حسین وجود عطا کرسکتا ہے، علاوہ ازیں وہ اسے مختلف مراحل سے گزارتا ہوا بڑھاپے کے ایسے اسٹیج پر پہنچا سکتا ہے جہاں اس کے جسم سے لے کر اس کی ذہنی و دماغی صلاحیتیں تک، سب ضعف و انحطاط کا شکار ہوجائیں۔ کیا اس کے لئے اسے دوبارہ زندگی عطا کردینا مشکل ہے؟ یقینا جو ذات انسان کو ان مراحل سے گزار سکتی ہے، وہی ذات مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے ایک نیا قالب اور نیا وجود بخش سکتی ہے دوسری دلیل یہ دی ہے کہ دیکھو زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے لیکن اسے بارش کے بعد یہ کس طرح زندہ اور شاداب اور انواع و اقسام کے غلے، میوہ جات اور رنگ برنگ کے پھولوں سے مالا مال ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انسانوں کو بھی ان کی قبروں سے اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ جس طرح حدیث میں ہے ایک صحابی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح پیدا فرمائے گا اس کی کوئی نشانی مخلوقات میں سے بیان فرمائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا گزر ایسی وادی سے ہوا ہے جو خشک اور بنجر ہو پھر دوبارہ اسے لہلہاتا ہوا دیکھا ہو؟ اس نے کہا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس اسی طرح انسانوں کی جی اٹھنا ہوگا۔ (مسند احمد جلد 4)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ لوگو! اگر تمہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے [4] میں کوئی شک ہے تو (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو منقش بھی ہوتی ہے اور نقش کے بغیر بھی، تاکہ ہم تم پر (اپنی قدرت کو) واضح کر دیں۔ پھر ہم جس نطفہ کے متعلق چاہتے ہیں اسے رحموں میں ایک خاص مدت تک جمائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھرپور جوانی کو پہنچو۔ پھر تم میں سے کسی کی تو روح قبض کر لی جاتی ہے اور کسی کو بدترین عمر (انتہائی بڑھاپے) تک زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ وہ سب کچھ جانے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہوتی ہے۔ پھر جب ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ حرکت میں آئی اور بھول گئی اور ہر قسم کی پُر بہار [5] چیزیں اگانا شروع کر دیں۔
[4] توحید باری تعالیٰ پر دلائل:۔
مشرکین مکہ سے اولین جھگڑا تو ان کے بتوں کے خدائی اختیارات سے تعلق رکھتا تھا اور دوسرا جھگڑا یہ تھا کہ دین ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی رکھنے کے باوجود بعث بعد الموت کا یقین نہیں رکھتے تھے لہٰذا اب ایسے دلائل دیئے جا رہے ہیں جو بعث بعد الموت پر پوری رہنمائی کرتے ہیں۔ سب سے پہلی دلیل تو انسان کا اپنا وجود ہے۔ آدم کے پتلے کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے بنایا۔ مٹی بے جان چیز ہے۔ جب اس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی تو وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ پھر آگے توالد و تناسل سے آدم کی اولاد پھیلی۔ اب جو چیزیں یا غذائیں انسان کھاتا ہے۔ وہ سب زمین سے حاصل ہوتی ہیں۔ انھیں غذاؤں سے کہیں انسان کا گوشت بنتا ہے، کہیں ہڈیاں، کہیں عضلات بنتے ہیں پھر اسی غذا سے نطفہ بھی بنتا ہے اور اس نطفہ کے ایک قطرہ میں ہزاروں جاندار جرثومے ہوتے ہیں۔ اب دیکھئے زمین بھی بے جان چیز ہے اور یہ غذائیں انسان نے استعمال کیں وہ بھی بنے جاں تھیں۔ لیکن اللہ نے انہی بے جان چیزوں سے زندہ اور متحرک جراثیم پیدا کر دیئے۔ پھر ان ہزاروں جرثوموں میں کوئی ایک آدھ جرثومہ عورت کے خلیہ بیضہ سے ملتا ہے تو انسان کی تخلیق کا عمل شروع ہو جاتا ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اللہ کو منظور ہو۔ ورنہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے ملاپ کے بعد بھی حمل قرار نہیں پاتا۔ حالانکہ مرد اور عورت دونوں کے نطفہ میں پوری پوری صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
رحم مادر میں انسان کی تخلیق:۔
پھر رحم مادر کے تہ بہ تہ اندھیروں میں انسان کی جس طرح تخلیق ہوتی ہے اور جن جن مراحل سے وہ گزرتا ہے ان میں سے اللہ نے صرف ان مراحل کا ذکر فرمایا ہے جو بالعموم عام انسانوں کے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور اس مشاہدہ کی صورت اسقاط حمل ہے۔ نطفہ کے بعد جما ہوا خون، پھر اس کے بعد جما ہوا خون گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل ہوتا ہے۔ مگر اس پر کسی قسم کا کوئی نقش نہیں ہوتا۔ پھر اس گوشت کے لوتھڑے میں آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سب اعضاء کے نقوش بننے لگتے ہیں پھر اسی لوتھڑے میں ہڈیاں اور عضلات بنتے چلے جاتے ہیں تا آنکہ مقر رہ وقت کے بعد انسان کا بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ چاہے تو وہ لڑکا بن جاتا ہے اور چاہے تو لڑکی بن جاتا ہے اور سب امور اور مراحل اللہ کی زبردست نگرانی میں طے ہوتے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عورت کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو کہتا ہے، پروردگار! اب نطفہ پڑا۔ پروردگار اب یہ خون بن گیا۔ پروردگار اب یہ لوتھڑا بن گیا پھر جب اللہ انہی پیدائش کے متعلق فیصلہ کر دیتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت؟ بد بخت ہے یا نیک بخت؟ اس کی روزی کیا ہے؟ اور اس کی عمر کیا ہے؟ پھر ماں کے پیٹ میں ہی یہ سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔“ [بخاري كتاب الحيض۔ باب قول الله مخلقنه غير مخلقه]
بعثت بعد الموت پر سب سے بڑی دلیل انسان کی اپنی پیدائش ہے:۔
اب انسان کی غفلت شعاری کا یہ حال ہے کہ کوئی کارنامہ خواہ کتنا ہی محیر العقول ہو۔ اگر وہ عادت بن چکا ہو تو اس میں غور کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتا۔ مگر اس جیسا یا اس سے کم محیر العقول بات جو ابھی وقوع پذیر نہ ہوئی ہو اس کا فوراً انکار کر دیتا ہے۔ بعث بعد الموت کا واقعہ انسان کی انہی پیدائش سے کچھ زیادہ محیر العقول نہیں ہے۔ لیکن انسان کا انکار صرف اس بنا پر ہوتا ہے کہ وہ ابھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔ پھر یہ بات کیا کم حیرت انگیز ہے کہ جب انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو جوانی تک اس کے جسم، اس کی عقل اور اس کی قوت ہر چیز میں اضافہ ہوتا جاتا ہے لیکن جوانی کے بعد انسان وہی پہلی سی غذائیں بلکہ پہلے سے اچھی غذائیں کھاتا ہے۔ لیکن اس کی عقل اور قوت میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کا قد و قامت ایک مقر رہ حد تک جا کر رک جاتا ہے پھر اس میں انحطاط رو نما ہونے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اعضاء کے اضمحلال کے علاوہ اس کی عقل بھی ماؤف ہو جاتی ہے، سیکھی ہوئی باتیں بھول جاتا ہے اور بہکی بہکی بچوں کی سی باتیں کرنے لگتا ہے کیا یہ شواہد ایسے نہیں ہیں کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے نیز یہ کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہ اس کے کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پھر آخر بعث بعد الموت سے انکار کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔
[5] نباتات سے معاد پر دوسری دلیل:۔
یہ معاد یا بعث بعد الموت پر دوسری دلیل ہے۔ مختلف قسم کی نباتات اور اجناس کے بیج زمین میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں جنہیں ہواؤں نے یا پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا۔ اسی طرح بے شمار چیزوں کی جڑیں بھی جگہ جگہ پیوند خاک ہوئی پڑی تھیں۔ جن میں نباتاتی زندگی کا کوئی ظہور موجود نہ تھا۔ مگر جونہی ان پر بارش کے چھینٹے پڑے تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بے کار پڑا ہوا بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا اور یہ احیائے اموات کا ایسا عمل ہے۔ جسے ہر انسان موسم بہار میں اور موسم برسات میں خود مشاہدہ کرتا رہتا ہے یہی صورت انسان کے جسم کی ہے۔ جس کا بدن گل سڑ جاتا ہے اور اس کے بھی اٹھنے کا موسم نفخۂ صور ثانی ہے۔ جب یہ موسم آ جائے گا تو ہر انسان اپنے اپنے مدفن سے زندہ اٹھا کھڑا کر دیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پہلی پیدائش دوسری پیدائش کی دلیل ٭٭
مخالفین اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل بیان کی جاتی ہے کہ ’ اگر تمہیں دوسری بار کی زندگی سے انکار ہے تو ہم اس کی دلیل میں تمہاری پہلی دفعہ کی پیدائش تمہیں یاد دلاتے ہیں ‘۔ تم اپنی اصلیت پر غور کر کے دیکھو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو جن کی نسل تم سب ہو۔ پھر تم سب کو ذلیل پانی کے قطروں سے پیدا کیا ہے جس نے پہلے خون بستہ کی شکل اختیار کی پھر گوشت کا ایک لوتھڑا بنا۔
چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الٰہی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں کوئی صورت و شبیہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ اسے صورت عنایت فرماتا ہے سر، ہاتھ، سینہ، پیٹ، رانیں، پاؤں اور کل اعضاء بنتے ہیں۔ کبھی اس سے پہلے ہی حمل ساقط ہو جاتا ہے، کبھی اس کے بعد بچہ گر پڑتا ہے۔ یہ تو تمہارے مشاہدے کی بات ہے۔ اور کبھی ٹھہرجاتا ہے۔
جب اس لوتھڑے پر چالیس دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اسے ٹھیک ٹھاک اور درست کرکے اس میں روح پھونک دیتا ہے اور جیسے اللہ چاہتا ہو خوبصورت بدصورت مرد عورت بنا دیا جاتا ہے رزق، اجل، نیکی، بدی اسی وقت لکھ دی جاتی ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس رات تک جمع ہوتی ہے۔ پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت رہتی ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کے لوتھڑے کی، پھر فرشتے کو چار چیزیں لکھ دینے کا حکم دے کر بھیجا جاتا ہے۔ رزق، عمل، اجل، شقی یا سعید ہونا لکھ لیا جاتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3208]‏‏‏‏
عبداللہ فرماتے ہیں نطفے کے رحم میں ٹھہرتے ہی فرشتہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ یہ مخلوق ہو گا یا نہیں؟ اگر انکار ہوا تو وہ جمتا ہی نہیں۔ خون کی شکل میں رحم اسے خارج کر دیتا ہے اور اگر حکم ملا کہ اس کی پیدائش کی جائے گی تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ نیک ہو گا یا بد؟ اجل کیا ہے؟ اثر کیا ہے؟ کہاں مرے گا؟ پھر نطفے سے پوچھا جاتا ہے تیرے رب کون ہے وہ کہتا ہے اللہ!، پوچھا جاتا ہے رازق کون ہے؟ کہتا ہے کہ اللہ!۔
پھر فرشتے سے کہا جاتا ہے تو جا اور اصل کتاب میں دیکھ لے وہیں اس کا حال مل جائے گا پھر وہ پیدا کیا جاتا ہے لکھی ہوئی زندگی گزارتا ہے مقدر کا رزق پاتا ہے مقررہ جگہ چلتا پھرتا ہے پھر موت آتی ہے اور دفن کیا جاتا ہے جہاں دفن ہونا مقدر ہے۔ پھر عامر رحمتہ اللہ علیہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی مضغہ ہونے کے بعد چوتھی پیدائش کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور ذی روح بنتا ہے۔
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے کہ { چالیس پینتالیس دن جب نطفے پر گزر جاتے ہیں تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ یہ دوزخی ہے یا جنتی؟ جو جواب دیا جاتا ہے لکھ لیتا ہے پھر پوچھتا ہے لڑکا ہے یا لڑکی؟ جو جواب ملتا ہے لکھ لیتا ہے پھر عمل اور اثر اور رزق اور اجل لکھی جاتی ہے اور صحیفہ لپیٹ لیا جاتا ہے جس میں نہ کمی ممکن ہے نہ زیادتی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2643]‏‏‏‏
پھر بچہ ہو کردنیا میں تولد ہوتا ہے نہ عقل ہے نہ سمجھ۔ کمزور ہے اور تمام اعضاء ضعیف ہیں پھر اللہ تعالیٰ بڑھاتا رہتا ہے ماں باپ کو مہربان کر دیتا ہے۔ دن رات انہیں اس کی فکر رہتی ہے تکلیفیں اٹھا کر پرورش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پروان چڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ عنفوان جوانی کا زمانہ آتا ہے خوبصورت تنومند ہو جاتا ہے بعض تو جوانی میں ہی چل بستے ہیں بعض بوڑھے پھونس ہو جاتے ہیں کہ پھر عقل وخرد کھوبیٹھتے ہیں اور بچوں کی طرح ضعیف ہو جاتے ہیں۔ حافظہ، فہم، فکر سب میں فتور پڑ جاتا ہے علم کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» ۱؎ [30-الروم:54]‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہیں کمزوری میں پیدا کیا پھر زور دیا پھر اس قوت وطاقت کے بعد ضعف اور بڑھاپا آیا جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے پورے علم والا اور کامل قدرت والا ہے ‘۔
مسند حافظ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بچہ جب تک بلوغت کو نہ پہنچے اس کی نیکیاں اس کے باپ کے یا ماں باپ کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور برائی نہ اس پر ہوتی ہے نہ ان پر۔ بلوغت پر پہنچتے ہی قلم اس پر چلنے لگتا ہے اس کے ساتھ کے فرشتوں کو اس کی حفاظت کرنے اور اسے درست رکھنے کا حکم مل جاتا ہے۔ جب وہ اسلام میں ہی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین بلاؤں سے نجات دے دیتا ہے جنون اور جذام سے اور برص سے، جب اسے اللہ تعالیٰ کے دین پر بچاس سال گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے جب وہ ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی کے کاموں کی طرف اس کی طبعیت کا پورا میلان کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف راغب کر دیتا ہے جب وہ ستر برس کا ہو جاتا ہے تو آسمانی فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی برس کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں تو لکھتا ہے لیکن برائیوں سے تجاوز فرما لیتا ہے۔ جب وہ نوے برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے اس کے گھرانے والوں کے لیے اسے سفارشی اور شفیع بنا دیتا ہے وہ اللہ کے ہاں امین اللہ کا خطاب پاتا ہے اور زمین میں اللہ کے قیدیوں کی طرح رہتا ہے جب بہت بڑی ناکارہ عمر کو پہنچ جاتا ہے جب کہ علم کے بعد بے علم ہو جاتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی صحت اور ہوش کے زمانے میں نیکیاں کیا کرتا تھا سب اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھی جاتی ہیں اور اگر کوئی برائی اس سے ہو گئی تو وہ نہیں لکھی جاتی } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3678:ضعیف]‏‏‏‏
یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے باوجود اس کے اسے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ اپنی مسند میں لائے ہیں موقوفاً بھی اور مرفوعاً بھی۔ انس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے اور عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے از فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۱؎ [مسند احمد:89/2:ضعیف]‏‏‏‏
پھر انس رضی اللہ عنہ سے ہی دوسری سند سے مرفوعاً یہی وارد کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:217/3:ضعیف]‏‏‏‏
حافظ ابوبکر بن بزار رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسے بہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوع میں بیان کیا ہے۔ ۱؎ [مسند بزار:3587:ضعیف]‏‏‏‏ (‏‏‏‏اور مسلمانوں پر رب کی مہربانی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ ہماری عمر میں نیکی کے ساتھ برکت دے آمین)‏‏‏‏‏‏‏‏
مردوں کے زندہ کر دینے کی ایک دلیل یہ بیان کر کے پھر دوسری دلیل بیان فرماتا ہے کہ ’ چٹیل میدان بے روئیدگی کی خشک اور سخت زمین کو ہم آسمانی پانی سے لہلہاتی اور تروتازہ کر دیتے ہیں طرح طرح کے پھل پھول میوے دانے وغیرہ کے درختوں سے سرسبز ہو جاتی ہے قسم قسم کے درخت اگ آتے ہیں اور جہاں کچھ نہ تھا وہاں سب کچھ ہو جاتا ہے مردہ زمین ایک دم زندگی کے کشادہ سانس لینے لگتی ہے جس جگہ ڈرلگتا تھا وہاں اب راحت روح اور نورعین اور سرور قلب موجود ہو جاتا ہے قسم قسم کے طرح طرح کے میٹھے کھٹے خوش ذائقہ مزیدار رنگ روپ والے پھل اور میوؤں سے لدے ہوئے خوبصورت چھوٹے بڑے جھوم جھوم کر بہار کا لطف دکھانے لگتے ہیں ‘۔
یہی وہ مردہ زمین ہے جو کل تک خاک اڑا رہی تھی آج دل کا سرور اور آنکھوں کا نور بن کر اپنی زندگی کی جوانی کامزا دی رہی ہے۔ پھولوں کے چھوٹے چھوٹے پودے دماغ کو مخزن عطار بنا دیتے ہیں دور سے نسیم کے ہلکے ہلکے جھونکے کتنے خوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔ سچ ہے خالق، مدبر، اپنی چاہت کے مطابق کرنے والا، خود مختیار حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور اس کی نشانی مردہ زمین کا زندہ ہونا مخلوق کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر انقلاب پر ہر قلب ماہیت پر قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے۔ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، فرماتا ہے ہو جا، پھر ناممکن ہے کہ وہ کہتے ہی ہو نہ جائے جیسے کہ آیت میں ہے «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-یس:82]‏‏‏‏۔
یاد رکھو قیامت قطعا بلا شک و شبہ آنے والی ہی ہے اور قبروں کے مردوں کو وہ قدرت والا اللہ زندہ کر کے اٹھانے والا ہے وہ عدم سے وجود میں لانے پر قادر تھا اور ہے اور رہے گا۔
سورۃ یاسین میں بھی بعض لوگوں کے اس اعتراض کا ذکر کر کے انہیں ان کی پہلی پیدائش یاد دلا کر قائل کیا گیا ہے ساتھ ہی سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی قلب ماہیت کو بھی دلیل میں پیش فرمایا گیا ہے اور آیتیں بھی اس بارے میں بہت سی ہیں۔
سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ جو ابورزین عقیلی کی کنیت سے مشہور ہیں { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہم لوگ سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھیں گے؟ اور اس کی مخلوق میں اس دیکھنے کی مثال کوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تم سب کے سب چاند کو یکساں طور پر نہیں دیکھتے؟ } ہم نے کہا ہاں فرمایا { پھر اللہ تو بہت بڑی عظمت والا ہے }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی بھی کوئی مثال دنیا میں ہے؟ جواب ملا کہ { کیا ان جنگلوں سے تم نہیں گزرے جو غیر آباد ویران پڑے ہوں خاک اڑ رہی ہو خشک مردہ ہو رہیں پھر دیکھتے ہو کہ وہی ٹکڑا سبزے سے اور قسم قسم کے درختوں سے ہرا بھرا نوپید ہو جاتا ہے بارونق بن جاتا ہے اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور مخلوق میں یہی دیکھی ہوئی مثال اس کا کافی نمونہ اور ثبوت ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4731،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور قیامت قطعا بے شبہ آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے دوبارہ زندہ کرے گا وہ یقیناً جنتی ہے۔‏‏‏‏