ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 45

فَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ بِئۡرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصۡرٍ مَّشِیۡدٍ ﴿۴۵﴾
سو کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے اس حال میں ہلاک کیا کہ وہ ظالم تھیں، پس وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی ہیں اور کتنے ہی بے کار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں اور چونا گچ محل۔ En
اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں
En
بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ کتنی ہی بستیاں ہیں جو خطا کار تھیں، انھیں ہم نے ہلاک کر دیا تو اب وہ اپنے چھتوں پر گری پڑی ہیں، ان کے کنویں بے کار اور پلستر شدہ محلات ویران [73] پڑے ہیں۔
[73] یعنی رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام یہ ہوا کہ ان کی پر رونق اور پر بہار آبادیاں اور شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ اس عذاب نے صرف آدمیوں کا ستیا ناس نہیں کیا بلکہ ان کے تعمیر شدہ مکانات بھی زمین بوس ہو گئے۔ کنوئیں ویران ہو گئے۔ جن سے آسانی سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کبھی یہاں انسانوں کی کثیر تعداد آباد ہو گی۔