یہ اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمھارے لیے مویشی حلال کر دیے گئے ہیں سوائے ان کے جو تمھیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔
En
یہ (ہمارا حکم ہے) جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے۔ اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیئے گئے ہیں۔ سوا ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو
یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کیے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے
En
30۔ یہ (تھا کعبہ کا مقصد) اور جو شخص اللہ کی احترام والی [44] چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ بات اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے۔ نیز تمہارے لئے چوپائے حلال کئے گئے ہیں ماسوائے ان کے جو تمہیں بتلائے [45] جا چکے ہیں۔ لہذا بتوں کی گندگی [46] سے بچو اور والی بات سے بھی بچو [47]
[44] حرمت اللّٰہ سے مراد اللہ کی حرام کردہ اشیاء بھی ہیں اور قابل احترام اشیاء یعنی شعائر اللہ بھی۔ یعنی ان سب چیزوں کی حرمت و احترام کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے اور تعمیر کعبہ کا اولین مقصد یہ تھا کہ اسے شرکیہ اعمال و افعال اور بتوں کی نجاستوں سے پاک و صاف رکھا جائے۔ اور قریش مکہ نے ایسی نجاستوں کا بھی مطلق خیال نہ رکھا اور جو لوگ اللہ کی توحید کے قائل تھے ان کے بیت اللہ میں داخلہ پر بھی پابندیاں لگا دیں۔ گویا اللہ کے گھر اور اس کے شعائر کی ہر طرح سے توہین کی۔ نیز اس مقام پر حرمت سے مراد عموماً حج، عمرہ، کعبہ، قربانی اور احرام سے متعلق احکام ہیں۔ جیسے کسی سے لڑائی جھگڑا کرنے، احرام کی حالت میں شکار کرنے اور صحبت کرنے سے بچنا اور ایسے احکام کا پورا پورا پاس رکھنا ضروری ہے اور یہ چیز ان کے حق میں ہیں اور اللہ کے ہاں بڑی خوبی اور نیکی کی بات ہے۔
[45] چار بنیادی حرام اشیاء:۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام چرنے والے چوپائے انسان کے لئے حلال قرار دیئے ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جن کا ذکر پہلے کئی مقامات پر آچکا ہے اور وہ ہیں مردار خواہ وہ جانور کسی بھی طریقہ سے مر گیا ہو، ہر وہ جانور یا چیز جو غیر اللہ کے نام پر مشہور کی جائے اس جملہ میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ مشرکین مکہ نے جو بحیرہ وصیلہ، سائیہ اور حام قسم کے مویشی حرام قرار دے رکھے ہیں۔ یہ قطعاً اللہ کی طرف سے حرام کردہ نہیں ہیں۔ [46] یعنی آستانوں کی آلائشوں اور بتوں کی پرستش سے یوں بچو جیسے انسان گندگی کے ڈھیر سے بچتا ہے اور اسے اس گندگی کے نزدیک جانے سے بھی گھن آتی ہے۔ تمام جانور اللہ کی مخلوق و مملوک ہیں۔ لہٰذا اسی کے نام پر اور اسی کے لئے کعبہ کی نیاز ہو سکتے ہیں۔ کسی بت یا دیوی یا آستانہ پر ذبح کیا ہوا جانور مردار کی طرح حرام اور نجس ہے۔ لہٰذا ایسے کاموں سے بچنا ضروری ہے۔
[47] ﴿زُور﴾ کا لغوی معنی:۔
﴿ قول الزور﴾ میں دونوں الفاظ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ زور کے معنی صرف جھوٹ نہیں بلکہ ہر وہ بات ہے جو حق سے ہٹی ہوئی ہو اور اس کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ ﴿قول الزور﴾ کے مقابلہ میں قرآن میں ﴿قولاًسديداً﴾ کے الفاظ آئے ہیں یعنی ایسی بات جس میں کوئی رخنہ، ابہام، ہیرا پھیری اور پیچیدگی نہ ہو اور قول الزور ایسی بات ہے جس میں یہ باتیں، ان میں سے کوئی ایک موجود ہو اور صاحب فقہ اللغۃ کے نزدیک زور ایسا جھوٹ ہے جسے بنا سنوار کر پیش کیا جائے کہ وہ بھلا اور درست معلوم ہو۔ اس لحاظ سے اللہ کے پیدا کئے ہوئے جانوروں کو غیر اللہ سے نامزد کر کے انھیں ذبح کرنا، بلا دلیل شرعی حلال کو حرام بنانا اور حرام کو حلال بنا لینا یہ سب قول الزور ہی کی اقسام ہیں اور افتراء علی اللہ بھی ہیں۔
شہادت زُور کبیرہ گناہ ہے:۔
ہر قول الزور کی ایک قسم شہادۃ الزور ہے۔ یعنی ایسی شہادت جس میں ہیرا پھیری سے کام لیا جائے۔ اہم واقعہ کو غیر اہم اور غیر اہم کو اس طرح اہم بنا کر پیش کیا جائے۔ جس سے کسی ایک فریق کی حق تلفی ہو جائے اور اسے نقصان پہچانے کی کوشش کی جائے۔ اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے برابر قرار دیا ہے۔ جیسا کہ یہاں اس آیت میں شرک کے ساتھ ہی قول الزور کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز عبد الرحمٰن بن ابی بکرہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں بڑے بڑے گناہ بتلاؤں؟“ ہم نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ضرور بتلائیے“ فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا“ اس وقت آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا۔“ آپ برابر یہی الفاظ دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ میں سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہی نہ ہوں گے۔ [بخاری۔ کتاب الادب باب حقوق الوالدین من الکبائر]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔