تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی تعظیم خود بندے کے لیے بہتر ہے، کیونکہ یہ اس کے لیے اس کے رب کی رضا حاصل کرنے کا باعث ہے، جس کا فائدہ اسی کو ہو گا۔ {” حُرُمٰتِ اللّٰهِ “} سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جیسے حرم، مسجد حرام، حرمت والے مہینے، ہدایا یعنی مکہ میں قربانی کے لیے جانے والے اونٹ، قلائد یعنی وہ بھیڑ بکریاں اور گائیں جن کے گلے میں قلادے (پٹے اور ہار) ڈالے ہوئے ہوں وغیرہ۔ ان سب کی تکریم ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی ہے، مگر مشرکین نے اپنے ملت ابراہیم کے پیروکار ہونے کے دعوے کے باوجود ان حرمتوں کو پامال کیا اور خود ساختہ چیزوں کو حرمت والا قرار دے لیا، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی وغیرہ۔ {” وَ مَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ “} کا مطلب یہ بھی ہے کہ احرام میں جو کام اللہ تعالیٰ نے حرام کیے ہیں، مثلاً شکار کرنا، شہوانی افعال، لڑائی جھگڑا، فسق و فجور وغیرہ، تو ان کے ارتکاب کو جو شخص بہت بڑا گناہ سمجھ کر ان سے اجتناب کرے تو یہ اس کے رب کے ہاں اس کے لیے بہتر ہے۔
➌ { وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۳) اور سورۂ نحل (۱۱۵)۔
➍ {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ …: ” اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ “} کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان چوپاؤں کے حلال ہونے کا حکم دیا جو مشرکین نے حرام کر رکھے تھے، مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ اور {” اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ “} کے ساتھ ان جانوروں کو حرام قرار دیا جو مشرکین نے حلال کر رکھے تھے، مثلاً غیر اللہ کے نام پر ذبح کر دہ جانور اور مردار وغیرہ۔ مشرکین کے بعض جانوروں کو حرام اور بعض کو حلال کرنے کا باعث بتوں کی عبادت تھی اور یہ ان کا اللہ پر صاف جھوٹ اور بہتان تھا کہ حلال و حرام کا یہ حکم اس کا حکم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شرک اور جھوٹ دونوں سے بچنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس گندگی سے بچو جو بتوں کی صورت میں ہے اور جھوٹی بات سے بچو۔ یعنی مشرکین نے اللہ کے ساتھ جو بتوں کو شریک بنا رکھا ہے اور اللہ کے ذمے بعض چیزوں کو حلال یا حرام کرنے کا بہتان باندھ رکھا ہے تم اس شرک سے اور اس جھوٹ اور بہتان سے اجتناب کرو۔ {” قَوْلَ الزُّوْرِ “} کا لفظ عام ہے، اس لیے اس میں جھوٹی شہادت دینا، کسی پر بہتان لگانا، غرض کوئی بھی جھوٹ بولنا شامل ہے اور سب سے اجتناب کا حکم ہے۔ {” الرِّجْسَ “} کا معنی گندگی ہے، {” مِنْ “} بیان کرنے کے لیے ہے، یعنی گندگی ظاہری بھی ہوتی ہے مگر خاص طور پر حکم دیا کہ اس معنوی گندگی سے بچو جو بتوں کی صورت میں ہے۔ ابن جزی فرماتے ہیں: {” مِنْ لِبَيَانِ الْجِنْسِ كَأَنَّهُ قَالَ الرِّجْسُ الَّذِيْ هُوَ الْأَوْثَانُ۔“}
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[46] یعنی آستانوں کی آلائشوں اور بتوں کی پرستش سے یوں بچو جیسے انسان گندگی کے ڈھیر سے بچتا ہے اور اسے اس گندگی کے نزدیک جانے سے بھی گھن آتی ہے۔ تمام جانور اللہ کی مخلوق و مملوک ہیں۔ لہٰذا اسی کے نام پر اور اسی کے لئے کعبہ کی نیاز ہو سکتے ہیں۔ کسی بت یا دیوی یا آستانہ پر ذبح کیا ہوا جانور مردار کی طرح حرام اور نجس ہے۔ لہٰذا ایسے کاموں سے بچنا ضروری ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے «الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:3] مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔ تمہیں چاہے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو۔
«مِنَ» یہاں پر بیان جنس کے لیے ہے، اور جھوٹی بات سے بچو۔ اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا جیسے آیت «قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33] یعنی ’ میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کر دیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ۔ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو ‘۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا ارشاد ہو، فرمایا: { اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کی نافرمانی کرنا } پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا: { اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا }۔ اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب نہ فرماتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2654]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا: { جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کر دی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا } }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { صبح کی نماز کی بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے ”اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لو باطل سے ہٹ کر حق کی طرف آ جاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والوں میں نہ بنو۔“
یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ ابراہیم میں گزر چکی ہے سورۃ الانعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے «قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّـهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّـهِ هُوَ الْهُدَىٰ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:71] ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ نہ وه ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے اور کیا ہم الٹے پھر جائیں اس کے بعد کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کر دی ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں جنگل میں بے راه کر دیا ہو اور وه بھٹکتا پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی بھی ہوں کہ وه اس کو ٹھیک راستہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ یقینی بات ہے کہ راه راست وه خاص اللہ ہی کی راه ہے اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے پورے مطیع ہو جائیں ‘۔ یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذلك}؛ أي: ذكرنا لكم من تلكُم الأحكام وما فيها من تعظيم حُرُمات الله وإجلالها وتكريمها؛ لأنَّ تعظيم حرماتِ الله من الأمورِ المحبوبة لله المقرِّبة إليه التي من عَظَّمَها وأجَلَّها أثابه الله ثواباً جزيلاً، وكانت خيراً له في دينِهِ ودُنياه وأخراه عند ربِّه. وحرماتُ الله كلُّ ما له حرمةٌ وأمَرَ باحترامِهِ من عبادةٍ أو غيرها؛ كالمناسك كلها، وكالحرم والإحرام، وكالهدايا، وكالعبادات التي أمر الله العباد بالقيام بها؛ فتعظيمُها إجلالاً بالقلب ومحبَّتها وتكميلُ العبوديَّة فيها غير متهاونٍ ولا متكاسل ولا متثاقل. ثم ذَكَرَ منَّته وإحسانَه بما أحلّه لعبادِهِ من بهيمة الأنعام من إبل وبقرٍ وغنم، وشرعها من جملة المناسك التي يُتَقَرَّبُ بها إليه، فعظمت منَّته فيها من الوجهين. {إلاَّ ما يُتلى عليكم} في القرآن تحريمُه من قوله: {حُرِّمَتْ عليكُم الميتةُ والدَّم ولحم الخنزير ... } الآية. ولكن الذي من رحمته بعباده أنْ حرَّمه عليهم ومَنَعَهم منه تزكيةً لهم وتطهيراً من الشرك به وقول الزور ، ولهذا قال: {فاجتنبوا الرجسَ}؛ أي: الخبث القذر {من الأوثانِ}؛ أي: الأنداد التي جعلتموها آلهةً مع الله؛ فإنَّها أكبرُ أنواع الرجس.
والظاهر أنَّ {مِن} هنا ليست لبيان الجنس كما قاله كثيرٌ من المفسرين، وإنَّما هي للتبعيض، وأنَّ الرجس عامٌّ في جميع المنهيَّات المحرَّمات، فيكون منهيًّا عنها عموماً، وعن الأوثان التي هي بعضُها خصوصاً، {واجْتَنِبوا قولَ الزُّور}؛ أي: جميع الأقوال المحرمات؛ فإنَّها من قول الزُّور، [الذي هو الكذب ومن ذلك شهادة الزور، فلما نهاهم عن الشرك والرجس وقول الزور].