ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 15

مَنۡ کَانَ یَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ لۡیَقۡطَعۡ فَلۡیَنۡظُرۡ ہَلۡ یُذۡہِبَنَّ کَیۡدُہٗ مَا یَغِیۡظُ ﴿۱۵﴾
جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں کبھی اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ ایک رسی آسمان کی طرف لٹکائے، پھر کاٹ دے، پھر دیکھے کیا واقعی اس کی تدبیر اس چیز کو دور کر دے گی جو اسے غصہ دلاتی ہے۔ En
جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے
En
جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وه اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھنده ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چاﻻکیوں سے وه بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا رہی ہے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا [14] (اور دوسروں کی طرف رجوع کرے) اسے چاہئے کہ آسمان تک ایک رسی لٹکائے پھر اسے کاٹ ڈالے اور دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دفع کر سکتی ہے جو اسے غصہ دلاتی ہے؟ (خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے تقدیر کے فیصلے کو بدل نہیں سکتا)
[14] اس آیت میں ایسا خیال کرنے والے سے مراد وہی منافق ہے جو کفر اور اسلام کی سرحد پر کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتا ہے مگر اللہ کی رضا پر راضی اور شاکر نہیں رہتا۔ اور جب اسے کفر و شرک کی صف میں شامل ہونے میں کوئی مفاد نظر آتا ہے تو فوراً ادھر لڑھک آتا ہے اور انھیں حقیر دنیوی مفادات کی خاطر اللہ کو چھوڑ کر دوسرے آستانوں پر جانا اور در در کی خاک چھانتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے وہ مفادات حاصل نہیں ہوتے تو الٹا اللہ اور اس کی تقدیر کو کوسنے لگتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی تقدیر کو بدلنے کی خاطر اپنی مقدور بھر کوشش کر کے دیکھے اور جو کچھ وہ کر سکتا ہے کر دیکھے اور بتلائے کہ کیا ایسے کرنے سے وہ اللہ کی تقدیر کو بدلنے میں کامیاب ہو سکا ہے؟ اس آیت میں جو آسمان کی طرف رسی تانے اور پھر اسے قطع کرنے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ بطور محاورہ ہیں ان سے لفظی معنی مراد نہیں ہیں۔ اور ایسے الفاظ تقریباً ہر زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً اردو میں اس محاورہ کے قریب المعنی الفاظ یہ ہیں ”بے شک وہ الٹا سیدھا ہو کر دیکھ لے“ اور پنجابی میں ایسا محاورہ بالکل صحیح مفہوم ادا کرتا ہے اور وہ محاورہ ہے ”تتے توے تے گھیسنی پیا کرے“ یعنی خواہ وہ گرم گرم توے پر اپنی مقعد رگڑے۔ ان سب محاوروں کا مفہوم ایک ہی جیسا ہے کہ وہ اپنی مقدور بھر کوشش کر کے دیکھ لے۔
تقدیر کے مقابلہ میں تدبیر کسی کام نہیں آسکتی:۔
اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے ﴿لَنْ يَنْصُرَهُ اللّٰهُ سے ﴿ه﴾ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد لی ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے دنیوی اور اخروی فتح و نصرت کے جو وعدے کر چکا ہے وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے خواہ کفار و مشرکین کو یہ بات کتنی ہی ناگوار اور غصہ دلانے والی ہو۔ اور وہ اس نصرت ربانی کو روکنے کے لئے اپنی انتہائی کوششیں صرف کر کے دیکھ لیں حتیٰ کہ آسمان پر ایک رسی تان کر اوپر چڑھیں اور وہاں سے وحی الٰہی اور آسمانی امداد کو منقطع کر آئیں۔ پھر دیکھیں کہ ان کی ان تدبیروں سے وہ وحی الٰہی اور نصرت ربانی آنا بند ہو جاتی ہے جس پر وہ اس قدر پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ یہ تفسیر کسی حد تک دل لگتی ہے مگر اس مقام پر سیاق و سباق اس تفسیر کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس سے پہلے بھی منافقوں اور مشرکوں کا ذکر چل رہا ہے اور بعد میں بھی کافروں اور مشرکوں ہی کا ذکر ہے۔ اور درمیان میں جو مومنوں کی بشارت سے متعلق کوئی آیت آجاتی ہے تو وہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جہاں کافروں اور مشرکوں کو ڈرایا جا رہا ہو وہاں مومنوں کی بشارت بھی ذکر آجائے اور اس کے برعکس بھی۔