ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 89

وَ زَکَرِیَّاۤ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۹﴾
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب وارثوں سے بہتر ہے۔
اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ اور زکریا کو بھی، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا: ”اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑنا اور بہترین وارث [79] تو تو ہی ہے“
[79] حضرت زکریاؑ اور ان کا اولاد کے لئے اپنے پروردگار کو پکارنے کا ذکر پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 37 اور سورۃ مریم کی ابتداء میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وہاں سے حواشی دیکھ لئے جائیں۔