ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 63

قَالَ بَلۡ فَعَلَہٗ ٭ۖ کَبِیۡرُہُمۡ ہٰذَا فَسۡـَٔلُوۡہُمۡ اِنۡ کَانُوۡا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۳﴾
اس نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو، اگر وہ بولتے ہیں۔
(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا) ۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو
آپ نے جواب دیا بلکہ اس کام کو ان کے بڑے نے کیا ہے تم اپنے خداؤں سے ہی پوچھ لو اگر یہ بولتے چالتے ہوں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ ابراہیم نے جواب دیا: نہیں بلکہ ان پر بڑے (بت) نے ہی یہ کچھ کیا ہو گا۔ لہذا انھیں (ٹوٹے ہوئے بتوں) سے ہی پوچھ لو۔ اگر بولتے [55] ہوں؟“
[55] چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کو سب لوگوں کے سامنے برسر میدان لایا گیا اور ان سے پہلا سوال جو ہوا تو وہ اعتراف جرم سے متعلق تھا۔ کیونکہ جب تک مجرم کا جرم ہی ثابت نہ ہو سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیمؑ سے پوچھا یہ گیا کہ: آیا ہمارے مشکل کشاؤں کو تم ہی نے توڑا پھوڑا ہے؟ اس سوال کا جواب حضرت ابراہیمؑ نے یہ دیا کہ قرینہ کی شہادت تو یہ ہے کہ یہ سب کارستانی بڑے بت کی ہے۔ جس نے کلہاڑا اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے۔ ممکن ہے بڑے خدا کو تمہارے جانے کے بعد چھوٹے خداؤں پر غصہ آ گیا ہو اور اس نے انھیں تہس نہس کر دیا ہو۔ اور اس سوال کا اصل حل یہ ہے کہ ان مظلوم اور ٹوٹے پھوٹے مشکل کشاؤں سے ہی پوچھ لو کہ ان پر کس نے یہ ظلم روا رکھا ہے اور یقین جانو کہ اگر وہ بولتے ہیں تو یقیناً تم کو اس سوال کا جواب دے دیں گے۔