اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔
اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں
قیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے
47۔ اور ہم روز قیامت انصاف [42] کے ترازو رکھیں گے اور کسی کی کچھ بھی حق تلفی نہ ہو گی اور اگر کسی کا رائی کے دانہ برابر بھی عمل ہو گا تو وہ بھی سامنے لائیں گے اور حساب کرنے کو ہم کافی ہیں۔
[42] اعمال کا وزن کیسے ہو گا، میزان الاعمال کی حقیقت:۔
اس آیت میں ﴿مَوَازِيْنُ﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو میزان بمعنی ترازو کی جمع ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ ہر شخص کے لئے الگ الگ ترازو رکھا جائے اور دوسرا یہ کہ مختلف اعمال کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ترازو ہوں۔ یہ حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اعمال کی حقیقت کا صحیح صحیح اندازہ کرنے کے لئے کس قسم کا ترازو استعمال ہو گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص پورے خشوع و خضوع کے ساتھ وقت پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے۔ دوسرا بھی جماعت میں شامل ہوتا ہے مگر گرانبار طبیعت کے ساتھ اور اللہ کی یاد کی بجائے دوسرے ہی خیالات میں مستغرق رہتا ہے اور اس کی نماز ایسے ہوتی ہے جیسے کوئی خود کار آلہ ہو جس کا سوئچ دبا گیا ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اجر کے لحاظ سے ان دونوں کی نمازوں میں نمایاں فرق ہے اگرچہ ظاہری شکل و صورت ایک ہی جیسی ہے۔ پھر یہ باطنی معاملات ایسے ہیں جن کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتا کہ فلاں شخص کے فلاں عمل میں حقیقت کتنی ہے اور وزن تو اعمال کے حقائق کا ہو گا جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَالْوَزْنُيَوْمَيِٕذِالْحَقُّ﴾[8: 7]
حدیث بطاقۃ:۔
اور اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہو جاتی ہے جو حدیث بطاقہ کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی قیامت کے دن ایک شخص کو پکارا جائے گا جس کے ننانوے گناہوں کے دفتر ہوں گے اور اس سے پوچھا جائے گا کہ دیکھو کہ ان دفتروں کے مندرجات درست ہیں اور میرے «كراماً كاتبين» نے تجھ پر کچھ زیادتی تو نہیں کی؟ وہ کہے گا اے پروردگار! یہ سب کچھ درست ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تمہاری کچھ نیکیاں بھی ہیں؟ وہ کہے گا، کوئی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہاری نیکیاں بھی نہیں اور آج کے دن کسی پر ظلم نہیں ہو گا۔ پھر اس کے لئے ایک پرچی نکالی جائے گا جس پر اشہد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ درج ہو گا۔ وہ کہے گا اے پروردگار ان ننانوے گناہ کے دفتر کے مقابلہ میں اس پرچی کی کیا حقیقت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تجھ پر کچھ زیادتی نہیں ہو گی۔ چنانچہ میزان الاعمال کے ایک پلڑے میں گناہوں کے ننانوے دفتر رکھیں جائیں گے اور دوسرے میں یہ پرچی تو گناہوں کا پلڑا اوپر اٹھ جائے گا اور پرچی والا نیکیوں کا پلڑا بھاری نکلے گا۔ [ابن ماجه، ابواب الزهد، باب مايرحي من رحمه الله يوم القيامه] اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اعمال کے حقائق کو تولنے میں ہر ایک کے ساتھ پورا پورا عدل و انصاف ہو گا۔ پھر اس کے مطابق ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہئے لفظ عدل یا قسط کی ضد ظلم ہے اور ظلم اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہے۔ لہٰذا نہ تو یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی بدلہ نہ دے اور نہ یہ ممکن ہے کہ عمل کے لحاظ سے اجر کم عطا فرمائے۔ اور یہ دونوں ظلم کی صورتیں ہیں۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کا اجر عدل سے بڑھ کر عطا فرمائے اور اس صفت کا نام احسان ہے۔ جو عدل سے بھی برتر صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ کسی کو عمل سے زیادہ اجر دے۔ کسی کی خطائیں معاف ہی کر دے۔ اور اگر حقوق العباد کا معاملہ ہو تو بندوں کو اپنی طرف سے ان کے حق عطا کر کے مجرم کو معاف کر دے۔ یہ تو سب کچھ ممکن ہے لیکن اللہ سے ظلم ممکن نہیں۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں حساب لینا آتا ہے۔ ہم اعمال کے حقائق کی تعیین کو بھی خوب جانتے ہیں اور کسی کے رائی بھر عمل کو بھی اور اس سلسلہ میں ہمیں کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں اور کَفیٰبِنَاحَاسِیِنْ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارا لیا ہوا حساب آخری اور فیصلہ کن ہوگا۔ جس کی نہ کوئی پڑتال کرنے کا حق رکھتا ہے اور نہ ہی کہیں اپیل ہو سکے گی۔ کوئی دوسرا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کی کچھ بھی مدد نہ کر سکے گا۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔