ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 3

لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجۡوَی ٭ۖ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ ہَلۡ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَ اَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۳﴾
اس حال میں کہ ان کے دل غافل ہوتے ہیں۔ اور ان لوگوں نے خفیہ سرگوشی کی جنھوں نے ظلم کیا تھا، یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا؟ تو کیا تم جادو کے پاس آتے ہو، حالانکہ تم دیکھ رہے ہو؟ En
ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو
En
ان کے دل بالکل غافل ہیں اور ان ﻇالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں کہ وه تم ہی جیسا انسان ہے، پھر کیا وجہ ہے جو تم آنکھوں دیکھتے جادو میں آجاتے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ ان کے دل تو اور باتوں میں منہمک ہیں اور یہ ظالم خفیہ مشورے کرتے ہیں کہ: ”کیا یہ تمہارے جیسا بشر [4] ہی نہیں، پھر تو دیکھتے بھالتے (اس کے) جادو میں کیوں پھنستے ہو؟“
[4] سردار قریش نے قرآن کے جادو سے بچنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کیں؟
قریش مکہ قرآن کی دعوت کے شدید مخالف تھے لیکن اس کے انداز بیان، فصاحت و بلاغت اور جادو کی سی تاثیر کے وہ خود بھی معترف تھے اور قرآن کو اسی لحاظ سے جادو کہتے تھے اور اس جادو کو روکنے کا طریقہ ابتداًء انہوں نے یہ اختیار کر لیا تھا کہ سب قریشی سرداروں نے مل کر یہ معاہدہ کیا کہ جہاں تک ہو سکے قرآن کے سننے اور پڑھنے پر پابندی لگا دی جائے۔ سننے پر پابندی تو انہوں نے اپنے آپ پر لگائی تھی مگر یہ قریشی سردار خود بھی اس پابندی کو نباہ نہ سکے اور خود بھی چوری چھپے قرآن سن لیتے تھے کیونکہ ان کے دل اور ان کے کام قرآن کی لذت سے محظوظ ہونا چاہتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ تین سردار رات کے وقت کعبہ کے گرد کھڑے ہو کر آپ کا قرآن سن رہے تھے۔ بعد میں یہ راز فاش ہو گیا تو ان میں سے ایک سردار نے ابو جہل سے پوچھا کہ ”جو قرآن تم نے سنا ہے اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟“ اس نے اس سوال کا صحیح جواب دینے کے بجائے رخ کو دوسرا طرف موڑ دیا اور کہا کہ ”ہم اور بنی عبد مناف سب باتوں میں ایک دوسرے کے ہم پلہ تھے، اب ہم ان کے نبی کو تسلیم کر کے ان کی اس برتری کو کیسے تسلیم کر سکتے ہیں“ [ابن هشام: ص 108]
ابو جہل کے اس جواب سے دو باتوں کا صاف طور پر پتا چلتا ہے۔ ایک یہ کہ سب قریشی سردار قرآن کی تاثیر سے متاثر تھے اور دوسری یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو تسلیم کرنے میں صرف یہ بات آڑے نہیں آرہی تھی کہ آپ بشر تھے بلکہ اس کی اور بھی کئی وجوہ تھیں۔ اور قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے پر پابندی ان لوگوں نے مسلمان پر لگا رکھی تھی۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ تھا کہ قرآن سن کر ان کی عورتیں اور ان کے بچے متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ پابندی مسلمانوں پر ہجرت نبوی تک قائم رہی۔ علاوہ ازیں ایک تدبیر انہوں نے یہ اختیار کی تھی کہ جب کہیں قرآن پڑھا جا رہا ہو تو وہاں خوب شور و غل مچاؤ تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے۔ یہ تھے وہ طریقے جو انہوں نے اس جادو کے شر سے بچنے کے لئے اختیار کئے تھے۔