تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى:} یہاں نحو کا ایک مشہور سوال ہے کہ جب فاعل ظاہر ہو تو خواہ وہ واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، فعل واحد کے صیغے کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں {” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} فاعل ظاہر ہونے کے باوجود فعل جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں آیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {” اَسَرُّوا “} کا فاعل ضمیر جمع ہے اور {” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} اس سے بدل ہے، یعنی کفار نے باہمی خفیہ مشورے سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رکھنے کے لیے خفیہ مشاورت کرکے طے کیا کہ لوگوں سے یہ کہو اور خفیہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ان کی طے کردہ بات ہے تو وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
➌ {هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ …:} یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ تمھاری طرح کا ایک انسان ہے، اب جو یہ معجزات دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا، ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۴)، تغابن (۶)، قمر (۲۴)، مومنون (۳۳، ۳۴)، فرقان (۷) اور ابراہیم (۱۰) پہلے کفار و مشرکین کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا، آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہو سکتا، بات ایک ہی ہے، «{ بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ }» [المؤمنون: ۸۱] ”بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔“ اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا رد فرمایا۔ دوسرا طعن یہ تھا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔ کفار کا یہ طعن بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ مدثر (۲۴) اور ذاریات (۵۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
ابو جہل کے اس جواب سے دو باتوں کا صاف طور پر پتا چلتا ہے۔ ایک یہ کہ سب قریشی سردار قرآن کی تاثیر سے متاثر تھے اور دوسری یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو تسلیم کرنے میں صرف یہ بات آڑے نہیں آرہی تھی کہ آپ بشر تھے بلکہ اس کی اور بھی کئی وجوہ تھیں۔ اور قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے پر پابندی ان لوگوں نے مسلمان پر لگا رکھی تھی۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ تھا کہ قرآن سن کر ان کی عورتیں اور ان کے بچے متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ پابندی مسلمانوں پر ہجرت نبوی تک قائم رہی۔ علاوہ ازیں ایک تدبیر انہوں نے یہ اختیار کی تھی کہ جب کہیں قرآن پڑھا جا رہا ہو تو وہاں خوب شور و غل مچاؤ تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے۔ یہ تھے وہ طریقے جو انہوں نے اس جادو کے شر سے بچنے کے لئے اختیار کئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لاهيةً قلوبُهم}؛ أي: قلوبهم غافلةٌ معرضةٌ لاهيةٌ بمطالبها الدُّنيوية، وأبدانُهم لاعبةٌ، قد اشتغلوا بتناول الشهوات والعمل بالباطل والأقوال الرديَّة، مع أن الذي ينبغي لهم أن يكونوا بغير هذه الصفة؛ تُقْبِل قلوبُهم على أمر الله ونهيه، وتستمعه استماعاً تفقه المراد منه، وتسعى جوارحهم في عبادة ربِّهم التي خلقوا لأجلها، ويجعلون القيامةَ والحسابَ والجزاء منهم على بال؛ فبذلك يتمُّ لهم أمرُهم وتستقيمُ أحوالُهم وتزكو أعمالُهم. وفي معنى قوله: {اقتربَ للناس حسابُهم}: قولان:
أحدُهما: أنَّ هذه الأمَّة هي آخر الأمم، ورسولُها آخرُ الرسل، وعلى أمته تقوم الساعةُ؛ فقد قَرُبَ الحساب منها بالنسبة لما قبلها من الأمم؛ لقوله - صلى الله عليه وسلم -: «بُعِثْتُ أنا والساعة كهاتين»؛ وقرن بين إصبعيه السبابة والتي تليها.
والقول الثاني: أنَّ المراد بقُرب الحساب الموتُ، وأنَّ مَنْ مات قامتْ قيامتُه ودخل في دار الجزاء على الأعمال، وأن هذا تعجُّب من كلِّ غافل معرض لا يدري متى يفجؤه الموتُ صباحاً أو مساء؛ فهذه حالة الناس كلِّهم؛ إلاَّ من أدركته العناية الربانيَّة، فاستعدَّ للموت وما بعده.
ثم ذكر ما يتناجى به الكافرون الظالمون على وجه العناد ومقابلة الحقِّ بالباطل، وأنهم تناجَوْا وتواطؤوا فيما بينهم أن يقولوا في الرسول - صلى الله عليه وسلم -: إنَّه بشرٌ مثلكم؛ فما الذي فضَّله عليكم وخصَّه من بينكم؟! فلو ادَّعى أحدٌ منكم مثل دعواه؛ لكان قولُه من جنس قوله، ولكنَّه يريد أن يتفضَّل عليكم ويرأس فيكم؛ فلا تطيعوهُ ولا تصدِّقوه، وإنَّه ساحرٌ، وما جاء به من القرآن سحرٌ؛ فانفروا عنه ونفِّروا الناس، وقولوا: {أفتأتونَ السِّحْرَ وأنتُم تبصِرونَ}: هذا وهم يعلمون أنَّه رسولُ الله حقًّا بما يشاهدون من الآيات الباهرة ما لم يشاهدْ غيرهم، ولكنْ حملهم على ذلك الشقاء والظُّلم والعناد.