ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 62

فَتَنَازَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ وَ اَسَرُّوا النَّجۡوٰی ﴿۶۲﴾
تو وہ اپنے معاملے میں آپس میں جھگڑ پڑے اور انھوں نے پوشیدہ سرگوشی کی۔ En
تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے
En
پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھﭗ کر چپکے چپکے مشوره کرنے لگے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ پھر اس معاملہ میں وہ (آل فرعون) آپس میں جھگڑنے گئے اور خفیہ [44] مشورہ کرنے لگے۔
[44] اکابرین فرعون میں اختلاف:۔
اکابرین قوم فرعون پر آپ کی نصیحت کا خاصا اثر ہوا اور وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ ایک فریق کہتا تھا کہ ان پیغمبروں کا مقابلہ کرنا اپنی شکست کو دعوت دینا ہے۔ دوسرا کہتا تھا کہ ابھی اس مقابلہ کو ملتوی کر دیا جائے جبکہ مقابلہ کے دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہو چکے تھے۔ اس حال میں یہ اکابرین علیحدہ چلے گئے اور سر جوڑ بیٹھے تاکہ کسی ایک فیصلہ پر اتفاق رائے ہو جائے۔ اس مشورہ میں ماہر جادوگروں کو بھی شریک کیا گیا ان میں سے بعض کہنے لگے کہ ایسے نورانی چہرے جادوگر نہیں ہو سکتے۔