ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 52

قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَا یَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾
کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ En
کہا کہ ان کا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) ۔ میرا پروردگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے
En
جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ موسیٰ نے جواب دیا: ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں [34] ہے۔ میرا رب [35] نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے
[34] اگر فرعون کے اس سوال کا جواب موسیٰؑ یوں دیتے کہ وہ سب کے سب گمراہ تھے اور انھیں دوزخ کا عذاب ہو گا۔ تو اگرچہ یہ جواب صحیح تھا مگر فرعون کے سارے درباری غصہ سے بھڑک اٹھتے اور فوراً ان دونوں کے خلاف متحد ہو جاتے اور فرعون اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ مگر موسیٰؑ نے جواب ایسا حکیمانہ دیا جو مبنی در حقیقت بھی تھا اور کسی کے تعصبانہ جذبات کو ٹھیس بھی نہ پہنچی تھی۔ آپ نے واضح الفاظ میں جواب دیا کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان کے حالات جاننے کی ہمیں ضرورت نہیں وہ جانیں اور ان کا پروردگار جانے۔ ہمیں صرف اپنی فکر کرنا چاہئے۔ کہ ہم کون سا طرز زندگی اختیار کرتے ہیں اور ہمارا انجام کیسا ہو گا۔
[35] اللہ سے بھول چوک نا ممکن ہے:۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کرنے کے سلسلے میں ان کی ہدایت کا جو قانون بنایا ہے نہ اس میں وہ بھولتا یا چوکتا ہے اور نہ کسی کو اس کے اچھے یا برے اعمال کی جزا و سزا دینے میں۔ قرآن کے اس مقام پر سیدنا موسیٰ کا ذکر ختم کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فرعون اور سیدنا موسیٰ کا پہلا مکالمہ ختم ہو رہا ہے اور آگے چند آیات میں جو دلائل توحید دیئے جا رہے ہیں اور پند و نصائح پیش کئے جا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور سب لوگوں کے لئے ہیں۔