ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ﴿۵۰﴾
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔ En
کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی
En
جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ موسیٰ نے کہا: ”ہمارا پروردگار ہے جس نے ہر چیز کو اس کی [32] صورت خاص عطا کی پر اس کی رہنمائی کی۔
[32] فرعون کا سیدنا موسیٰ سے پہلا سوال کہ تمہارا پروردگار کون ہے:۔
جب فرعون کے پاس پہنچ کر ان دونوں بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقہ پر اس کی دعوت پیش کی تو فرعون نے جو پہلا سوال یا اعتراض کیا وہ اس کی اپنی دکھتی رگ تھی۔ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا اور لوگوں کو اس نے یہی یقین دلایا ہوا تھا کہ وہی ان کا پروردگار ہے۔ فرعون بلا شبہ اس بات کا قائل تھا کہ زمین و آسمان اور موجودات کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی سیاسی و قانونی حاکمیت کا وہ منکر تھا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ میرے اوپر کوئی ایسی بالاتر ہستی نہیں جس کا حکم مجھ پر چلتا ہو اور مجھے اس کا حکم ماننا ضروری ہو۔ لہٰذا اس نے فوراً یہ سوال کر دیا کہ ”ایسا تمہارا پروردگار ہے کون؟“ چونکہ فرعون اللہ تعالیٰ کی توحید و ربوبیت کا قائل تھا، اس لئے سیدنا موسیٰؑ نے اس کا جواب ہی ایسا دیا جو ربوبیت سے تعلق رکھتا تھا۔ اور وہ جواب یہ تھا کہ میرا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو احسن ایک خاص ساخت عطا کی۔ پھر اس کا وظیفہ بھی اسے سمجھا دیا اور اس کی جبلت میں رکھ دیا۔ اس نے مچھلی پیدا کی تو اسے پانی میں تیرنا بھی سکھلا دیا، پرندے پیدا کئے تو انھیں اڑنا بھی سکھلا دیا۔ بچہ پیدا کیا تو اسے فوراً ماں کے پستان سے چمٹنا اور دودھ پینے کا طریقہ بھی سکھلا دیا۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کی ایسی رہنمائی نہ کرتا تو اس کے علاوہ کوئی بھی انھیں سکھلا نہیں سکتا تھا۔ واضح رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے خلق کل شئی نہیں بلکہ اعطی کل شئی خلقہ فرمایا ہے۔ جو یہ معنی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی پیدائش کے وقت اسے ایک خاص شکل و صورت عطا فرمائی اور وہی اس کے لیے مناسب تھی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے جس جس مقام پر انسان کی آنکھیں ناک اور کان یا دوسرے اعضاء بنائے تو وہی مقامات ان اعضاء کے لیے مناسب تھے، اگر ان کو ادھر اُدھر کر دیا جاتا تو ہر چیز بدصورت ہوتی اور اس کا حلیہ بھی بگڑا ہوا ہوتا۔