44۔ دیکھو، اسے نرمی سے بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے [29] یا (اللہ سے) ڈر جائے۔“
[29] دعوت کے لئے قوم کا لہجہ ضروری ہے:۔
کسی کے راہ راست پر آنے اور اسے قبول کرنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دعوت کو پوری سمجھ کر حق بات قبول کر لے اور دوسری یہ کہ اپنے برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہو جائے۔ یہ دونوں باتیں بتلا دیں اور انھیں تاکید کر دی کہ فرعون سے جو بات کہیں نرمی کے لہجہ میں کہیں۔ کیونکہ سختی سے بات کرنے سے بسا اوقات الٹا اثر ہوتا ہے۔ مخاطب اصل بات سمجھنے کی بجائے طرز تخاطب اور لہجہ کی بنا پر ضد اور مخالفت پر اتر آتا ہے۔ گویا تبلیغ اور دعوت دین کا کام کرنے والوں کے لئے یہ ایک نہایت اہم سبق ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔