ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 44

فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوۡ یَخۡشٰی ﴿۴۴﴾
پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔ En
اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے
En
اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ دیکھو، اسے نرمی سے بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے [29] یا (اللہ سے) ڈر جائے۔“
[29] دعوت کے لئے قوم کا لہجہ ضروری ہے:۔
کسی کے راہ راست پر آنے اور اسے قبول کرنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دعوت کو پوری سمجھ کر حق بات قبول کر لے اور دوسری یہ کہ اپنے برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہو جائے۔ یہ دونوں باتیں بتلا دیں اور انھیں تاکید کر دی کہ فرعون سے جو بات کہیں نرمی کے لہجہ میں کہیں۔ کیونکہ سختی سے بات کرنے سے بسا اوقات الٹا اثر ہوتا ہے۔ مخاطب اصل بات سمجھنے کی بجائے طرز تخاطب اور لہجہ کی بنا پر ضد اور مخالفت پر اتر آتا ہے۔ گویا تبلیغ اور دعوت دین کا کام کرنے والوں کے لئے یہ ایک نہایت اہم سبق ہے۔