تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى: ” لَعَلَّ “} کا لفظ ترجی (امید کرنے) کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں امید کا ذکر آئے تو وہ بات یقینی ہوتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ فرعون نصیحت یا ڈرنے سے محروم رہے گا، پھر {”لَعَلَّ“ } کا لفظ کیوں فرمایا؟ اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک تویہ کہ یہ {”لَعَلَّ“ } موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی نسبت سے ہے کہ تم اس سے نرم بات اس امید کے ساتھ کہو کہ وہ نصیحت حاصل کرے گا یا ڈر جائے گا۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کو تو علم نہیں تھا کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ اسی طرح مخاطب کتنا بھی سرکش ہو داعی کو ہمیشہ امید کا چراغ دل میں روشن رکھنا لازم ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ {”لَعَلَّ“} کا لفظ ”امید ہے“ کے علاوہ{ ”كَيْ“} یعنی ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے سورۂ بقرہ (۲۱) میں فرمایا: «لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» ”تاکہ تم بچ جاؤ۔“ {” يَتَذَكَّرُ “ } نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئے یا کم از کم ڈر کر ظلم سے باز آ جائے، کیونکہ ایک سرکش آدمی سے یہی امید کی جا سکتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فقولا له قولاً ليِّناً}؛ أي: سهلاً لطيفاً برفق ولينٍ وأدبٍ في اللفظ من دون فحش ولا صَلَف ولا غِلْظَةٍ في المقال أو فظاظةٍ في الأفعال. {لعلَّه}: بسبب القول اللين {يَتَذَكَّر}: ما ينفعه فيأتيه {أو يَخْشى}: ما يضرُّه فيتركه؛ فإنَّ القول الليِّن داعٍ لذلك، والقول الغليظ منفِّرٌ عن صاحبه، وقد فُسِّر القول الليِّن في قوله: {فَقُلْ هل لك إلى أن تَزَكَّى. وأهدِيَك إلى ربِّك فتَخْشى}؛ فإنَّ في هذا الكلام من لطف القول وسهولتِهِ وعدم بشاعته ما لا يخفى على المتأمِّل؛ فإنَّه أتى بـ {هل} الدالَّة على العرض والمشاورة، التي لا يشمئزُّ منها أحدٌ، ودعاه إلى التزكِّي والتطهُّر من الأدناس، التي أصلها التطهُّر من الشرك، الذي يقبله كلُّ عقل سليم، ولم يقلْ: أزكيك، بل قال: {تزكَّى}: أنت بنفسك، ثم دعاه إلى سبيل ربِّه الذي ربَّاه وأنعم عليه بالنِّعم الظاهرة والباطنة، التي ينبغي مقابلتها بشكرها وذكرها، فقال: {وأهدِيَك إلى ربِّك فتَخْشى}، فلما لم يقبلْ هذا الكلام الليِّن الذي يأخُذُ حسنُه بالقلوب؛ عُلِمَ أنَّه لا ينجعُ فيه تذكيرٌ، فأخذه الله أخذ عزيز مقتدر.