ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 135

قُلۡ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اہۡتَدٰی ﴿۱۳۵﴾٪
کہہ دے ہر ایک منتظر ہے، سو تم انتظار کرو، پھر تم جلد ہی جان لو گے کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور کون ہے جس نے ہدایت پائی۔ En
کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)
En
کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

135۔ آپ ان سے کہئے کہ: ”ہر ایک انجام کار کا منتظر ہے لہذا تم بھی انتظار کرو۔ جلد ہی [103] تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ (ہم میں سے) کون راہ راست پر ہے اور کون ہدایت یافتہ ہے“
[103] یعنی اب تم بھی اور ہم بھی بلکہ سارے کا سارا عرب اس انتظام میں ہے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لہٰذا انتظار کرو۔ عنقریب سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون سا فریق سیدھی راہ پر گامزن ہے؟ زمانہ کی گردش کس پر پڑتی ہے اور تباہ کون ہوتا ہے؟