اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
En
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے
اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے
En
132۔ اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجئے اور خود بھی اس پر ڈٹ [98] جائیے۔ ہم آپ سے رزق نہیں مانگتے، وہ تو ہم خود [99] تمہیں دیتے ہیں اور انجام پرہیزگاری کا ہی [100] بخیر ہوتا ہے۔
[98] گھر والوں کو نماز کا حکم دینا ضروری ہے:۔
یعنی خود نمازوں پر پابند رہنے کے علاوہ آپ کو اپنے گھر والوں کو بھی ان کی پابندی کا حکم دینا چاہئے۔ پھر اس بات پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہئے۔ اس سے آپ کے مشن کو مزید تقویت پہنچے گی۔ اگرچہ اس آیت میں خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تاہم حکم عام ہے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بچہ جب سات برس کا ہو جائے تو اسے نماز ادا کرنے کو کہو اور اگر دس سال کا ہونے پر بھی اسے نماز کی عادت نہ پڑے تو اسے مار کر نماز پڑھاؤ۔ [ابوداؤد، بحواله مشكوة، كتاب الصلوٰة۔ الفصل الثاني] [99] عرب میں یہ دستور تھا کہ مالک اپنے غلاموں کو کمائی کے لئے بھیجتے۔ پھر ان سے یہ کمائی خود وصول کرتے یا پھر غلام پر اس کی قابلیت کے مطابق روزانہ یا ماہانہ ایک رقم مقرر تھی کہ اتنی رقم تو وہ بہرحال کما کر اپنے مالک کو دے گا اور اگر کچھ زائد کما لے تو وہ اس کا اپنا ہو گا جس طرح ہمارے ہاں کسی چیز کا روزانہ یا ماہانہ کرایہ یا ٹھیکہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مسلمانوں سے یہ فرماتے ہیں کہ ہم تم سے کچھ رزق نہیں مانگتے، حالانکہ تم سب میرے بندے اور غلام ہو۔ بلکہ وہ تو ہم خود تمہیں دیتے ہیں اور یہ ہمارا ذمہ ہے۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری میں لگے رہو۔ جو رزق تمہارے مقدر میں ہے وہ تمہیں مل کے ہی رہے گا۔
[100] تقویٰ کا انجام ہمیشہ بہتر ہی ہے:۔
اور یاد رکھو کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا؟ اس دنیا میں بھی اس کا انجام بہتر ہوگا اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس کی انجام کی بہتری کا ذکر ایک دوسری آیت میں یوں بیان فرمایا کہ دنیا میں جب کوئی متقی شخص کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے نکلنے کی راہ پیدا کر دیتا ہے۔ نیز ایسی جگہ سے اسے رزق مہیا کرتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوگا [65: 1، 2] علاوہ ازیں اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مثلاً اگر ایک متقی شخص کاروبار کرتا ہے تو اس کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور کسی کی ساکھ قائم ہو جانا اللہ کا بہت بڑا فضل اور انعام ہے اور انجام کار وہی کامیاب رہتا ہے۔ غرض یہ جملہ ایک ایسی آفاقی صداقت (universal Truth) ہے کہ جس اعتبار سے بھی اس کا تجربہ کیا جائے درست ہی ثابت ہو گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔