سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور رات کے کچھ اوقات میں بھی پس تسبیح کر اور دن کے کناروں میں، تاکہ تو خوش ہو جائے۔
En
پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ اور رات کی ساعات (اولین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ
پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے
En
130۔ لہٰذا جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور اپنے پروردگار کو حمد [94] کے ساتھ تسبیح کیجئے، سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ اوقات میں تسبیح کیجئے اور دن کے کناروں پر [95] بھی، اسی طرح امید ہے کہ آپ [96] خوش رہیں گے۔
[94] صبر اور نماز کے فوائد:۔
مصائب و مشکلات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے کے لئے قرآن نے متعدد مقامات پر دو باتوں پر زور دیا ہے۔ ایک صبر اور دوسرے نماز۔ صبر سے مراد احکام الٰہی کو پورے استقلال کے ساتھ بجا لاتے رہنا بھی ہے۔ اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی۔ اور نماز سے بندے کا اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے اور وہ اللہ پر توکل کرنا سیکھتا ہے اور جوں جوں یہ تعلق بڑھتا جاتا ہے۔ اللہ پر توکل میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور اسی توکل سے مشکلات کو برداشت کرنے کی ہمت و جرأت پیدا ہوتی ہے۔
[95] پانچوں نمازوں کے اوقات:۔
حمد کے ساتھ تسبیح اور محض تسبیح دونوں سے یہاں مراد نماز ہے کہ یہ عرب میں عام دستور ہے کہ کسی چیز کا کوئی خاص جزء بول کر اس سے مراد کل لیا جاتا ہے اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔ سورج کے طلوع سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب سے پہلے کی نماز عصر ہے۔ رات کے کچھ اوقات سے مراد نماز عشاء ہے اور نماز تہجد بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرض تھی لیکن دوسروں کے لئے سنت مؤکدہ ہے۔ اور ان کے کنارے تین ہی ہو سکتے ہیں، صبح، شام اور زوال آفتاب، صبح سے مراد فجر کی نماز ہے جس کا ذکر پہلے ہی آچکا، شام سے مراد نماز مغرب اور زوال آفتاب سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ گویا اس ایک آیت سے ہی پانچوں فرض نمازیں اور ان کے اوقات ثابت ہو جاتے ہیں اور اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی وقت بھی اللہ کی یاد اور تسبیح و تہلیل سے غافل نہ رہنا چاہئے۔ [96] یعنی صبر اور نمازوں کے قیام کے نتائج اتنے شاندار حاصل ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر خوش ہو جائیں گے اور فی الواقع ان کے ایسے شاندار نتائج نکلے جو سب دنیا نے دیکھ لئے اور ایسے نتائج کا ذکر قرآن کی اور بھی بہت سی آیات میں مذکور ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دنیا کے بعد آخرت کو اتنا بلند مقام عطا ہو گا جس پر آپ خوش ہو جائیں گے۔ جیسے آپ کا قیامت کے دن انبیاء سمیت سب لوگوں کے لئے اللہ کے حضور سفارش کرنا اور آپ کو مقام محمود عطا ہونا وغیرہ۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔