102۔ جس دن صور [71] پھونکا جائے گا ہم اس دن مجرموں کو اکٹھا کریں گے تو وہ (دہشت کے مارے) نیلگوں [72] ہو رہے ہوں گے۔
[71] صور کے معنیٰ اور اس کی ترقی یافتہ شکلیں:۔
صور کے معنی قرنا، نرسنگھا اور بوق ہے اور یہ چیزیں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رائج تھیں۔ ضروری نہیں کہ صور کی بھی یہی شکل و صورت ہو بلکہ قرآن ایسے لفظ استعمال کرتا ہے۔ جس سے انسانی ذہن اس اصل چیز سے قریب تر کسی چیز سے متعارف ہو۔ بعد میں اس غرض کے لئے فوج میں بگل استعمال ہوتا ہے جس سے لشکر کو اکٹھا یا منتشر کیا جاتا ہے۔ ہوائی حملہ کے خطرہ کے دوران سائرن بھی اسی سے ملتی جلتی چیز ہے۔ روزہ کو بند کرنے اور کھولنے کے وقت بھی سائرن کا استعمال ہوتا ہے۔ بس اسی سے ملتی جلتی یا اس سے بھی ترقی یافتہ شکل نفخہ صور کی ہو گی۔ [72] اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جب دہشت کے مارے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں تو ان پر نیلگوں سفیدی غالب آجاتی ہے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سارا بدن ہی نیلگوں ہو جائے گا۔ یعنی دہشت کے مارے خون تو خشک ہو جائے گا اور جسم پر نیلاہٹ غالب آنے لگے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔