تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[72] اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جب دہشت کے مارے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں تو ان پر نیلگوں سفیدی غالب آجاتی ہے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سارا بدن ہی نیلگوں ہو جائے گا۔ یعنی دہشت کے مارے خون تو خشک ہو جائے گا اور جسم پر نیلاہٹ غالب آنے لگے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور حدیث میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔
غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» ۱؎ [35-فاطر:37] الخ۔
ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:112]
اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إذا نُفِخَ في الصور، وخرج الناس من قبورهم؛ كل على حسب حاله؛ فالمتَّقون يُحْشَرون إلى الرحمن وفداً، والمجرِمون يُحْشَرون زُرقاً ألوانُهم من الخوف والقلق والعطش؛ يتناجَوْن بينَهم ويَتَخافَتون في قِصَرِ مدَّة الدُّنيا وسرعة الآخرة، فيقول بعضُهُم ما لبثتُم إلاَّ عشرة أيَّام، ويقول بعضُهم غير ذلك، والله يعلمُ تخافُتَهم ويسمعُ ما يقولون: {إذْ يقولُ أمثلُهم طريقةً}؛ أي: أعدلهم وأقربهم إلى التقدير: {إنْ لَبِثْتُم إلاَّ يوماً}: والمقصود من هذا الندم العظيم؛ كيف ضيَّعوا الأوقات القصيرة وقطعوها ساهين لاهين معرضين عما ينفعُهم مقبِلين على ما يضرُّهم؛ فها قد حضر الجزاءُ، وحقَّ الوعيد، فلم يبق إلاَّ الندمُ والدُّعاء بالويل والثبور؛ كما قال تعالى: {قال كم لَبِثْتُم في الأرضِ عَدَدَ سنين. قالوا لَبِثْنا يوماً أو بعضَ يوم فاسْألِ العادِّينَ قالَ إن لَبِثْتُم إلاَّ قليلاً لو أنَّكم كنتُم تعلمونَ}.