ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 102

یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ وَ نَحۡشُرُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ زُرۡقًا ﴿۱۰۲﴾ۚۖ
جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے۔ En
جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکھٹا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی
En
جس دن صور پھونکا جائے گا اور گناه گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر ﻻئیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 102) {يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ …:} یہ پچھلی آیات میں مذکور { يَوْمَ الْقِيٰمَةِ } سے بدل ہے جو قیامت کے دن کی وضاحت کر رہا ہے۔ { الصُّوْرِ } کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۷۳) اور کہف (۹۹)۔ { زُرْقًا أَزْرَقُ} کی جمع ہے، جس کا معنی نیلے رنگ والا ہے۔ یہاں اس کے دو معنی مراد ہو سکتے ہیں، ایک نیلے جسم اور نیلے چہروں والے، مراد سیاہ رنگ والے، کیونکہ جلی ہوئی جلد نیلگوں کالی ہو جاتی ہے۔ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۶)۔ دوسرا معنی اندھے ہے، کیونکہ بہت نیلی آنکھ اندھے آدمی کی ہوتی ہے، یعنی قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے، اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۲۴، ۱۲۵)۔ طبری نے صرف یہی معنی بیان فرمایا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 صور سے مراد وہ (نرسنگا) ہے، جس میں اسرافیل ؑ اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے تو قیامت برپا ہوجائے گی، حضرت اسرافیل ؑ کے پہلے پھونکنے سے سب پر موت طاری ہو جائیگی، اور دوسرے پھونکنے سے بحکم الٰہی سب زندہ اور میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ آیت میں یہی دوسرا پھونکنا مراد ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ جس دن صور [71] پھونکا جائے گا ہم اس دن مجرموں کو اکٹھا کریں گے تو وہ (دہشت کے مارے) نیلگوں [72] ہو رہے ہوں گے۔
[71] صور کے معنیٰ اور اس کی ترقی یافتہ شکلیں:۔
صور کے معنی قرنا، نرسنگھا اور بوق ہے اور یہ چیزیں دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رائج تھیں۔ ضروری نہیں کہ صور کی بھی یہی شکل و صورت ہو بلکہ قرآن ایسے لفظ استعمال کرتا ہے۔ جس سے انسانی ذہن اس اصل چیز سے قریب تر کسی چیز سے متعارف ہو۔ بعد میں اس غرض کے لئے فوج میں بگل استعمال ہوتا ہے جس سے لشکر کو اکٹھا یا منتشر کیا جاتا ہے۔ ہوائی حملہ کے خطرہ کے دوران سائرن بھی اسی سے ملتی جلتی چیز ہے۔ روزہ کو بند کرنے اور کھولنے کے وقت بھی سائرن کا استعمال ہوتا ہے۔ بس اسی سے ملتی جلتی یا اس سے بھی ترقی یافتہ شکل نفخہ صور کی ہو گی۔
[72] اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جب دہشت کے مارے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں تو ان پر نیلگوں سفیدی غالب آجاتی ہے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سارا بدن ہی نیلگوں ہو جائے گا۔ یعنی دہشت کے مارے خون تو خشک ہو جائے گا اور جسم پر نیلاہٹ غالب آنے لگے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صور کیا ہے ؟ ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «‏‏‏‏حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ‏‏‏‏۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔
غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:37]‏‏‏‏ الخ۔
ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:112]‏‏‏‏
اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔
اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ۰۰قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّیْنَ۰۰قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّـكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (المؤمنون:23؍112-114) اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إذا نُفِخَ في الصور، وخرج الناس من قبورهم؛ كل على حسب حاله؛ فالمتَّقون يُحْشَرون إلى الرحمن وفداً، والمجرِمون يُحْشَرون زُرقاً ألوانُهم من الخوف والقلق والعطش؛ يتناجَوْن بينَهم ويَتَخافَتون في قِصَرِ مدَّة الدُّنيا وسرعة الآخرة، فيقول بعضُهُم ما لبثتُم إلاَّ عشرة أيَّام، ويقول بعضُهم غير ذلك، والله يعلمُ تخافُتَهم ويسمعُ ما يقولون: {إذْ يقولُ أمثلُهم طريقةً}؛ أي: أعدلهم وأقربهم إلى التقدير: {إنْ لَبِثْتُم إلاَّ يوماً}: والمقصود من هذا الندم العظيم؛ كيف ضيَّعوا الأوقات القصيرة وقطعوها ساهين لاهين معرضين عما ينفعُهم مقبِلين على ما يضرُّهم؛ فها قد حضر الجزاءُ، وحقَّ الوعيد، فلم يبق إلاَّ الندمُ والدُّعاء بالويل والثبور؛ كما قال تعالى: {قال كم لَبِثْتُم في الأرضِ عَدَدَ سنين. قالوا لَبِثْنا يوماً أو بعضَ يوم فاسْألِ العادِّينَ قالَ إن لَبِثْتُم إلاَّ قليلاً لو أنَّكم كنتُم تعلمونَ}.