ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 10

اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِقَبَسٍ اَوۡ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ﴿۱۰﴾
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بے شک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں تمھارے پاس اس سے کوئی انگارا لے آئوں، یا اس آگ پر کوئی رہنمائی حاصل کر لوں۔ En
جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا رستہ معلوم کرسکوں
En
جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس ﻻؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں [9] سے کہا: ٹھہرو! مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے آپ کے کوئی کوئی انگارا لا سکوں یا مجھے وہاں سے راہ کا پی پتہ چل جائے۔
[9] سیدنا موسیٰ کا آگ لینے کے لئے جانا:۔
اس قصہ کا آغاز اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب موسیٰؑ کو نبوت عطا کی گئی تھی۔ آٹھ دس سال آپ مدین میں شعیبؑ کے پاس رہے وہاں آپ کا نکاح شعیبؑ کی بیٹی سے ہوا تھا۔ طے شدہ مدت گزارنے کے بعد آپ کو خیال آیا کہ آپ اپنے آبائی وطن مصر کی طرف چلنا چاہئے۔ دوران سفر آپ کو رات آ گئی۔ شدید سردی کا موسم تھا۔ بیوی ساتھ تھی اور وہ حاملہ تھی۔ سخت اندھیرا تھا لہٰذا آپ راستہ بھی بھول گئے اور کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کریں۔ سخت پریشانی کا عالم تھا۔ اتنے میں آپ کو دور کہیں سے آگ دکھائی دی۔ جو اس بات کی علامت تھی کہ ضرور وہاں کوئی آدمی بھی موجود ہو گا۔ چنانچہ آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم تو یہیں ٹھہرو، میں وہاں آگ والوں کے پاس جاتا ہوں۔ تاکہ ان لوگوں سے راہ کا اتا پتا پوچھ سکوں دوسرے کچھ آگ کے انگارے بھی لیتا آؤں گا۔ تاکہ تم آگ سینک سکو۔