ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 49

وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ﴿۴۹﴾
اور جب ہم نے تمھیں فرعون کی قوم سے نجات دی، جو تمھیں براعذاب دیتے تھے، تمھارے بیٹوں کو بری طرح ذبح کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔ En
اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی
En
اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ پھر (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی تھی۔ یہ لوگ تمہیں سخت دکھ دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو تو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور تمہاری اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے ایک [68] بڑی آزمائش تھی
[68] فرعون کی بنی اسرائیل کو تعذیب کی وجہ:۔
فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر اس کے نجومیوں نے یہ دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہو گا جو تمہیں اور تمہاری سلطنت کو غارت کر دے گا۔ فرعون نے اس کا حل یہ سوچا کہ اپنی مملکت میں حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بچہ پیدا ہو اسے مار ڈالا جائے اور جو لڑکیاں پیدا ہوں انہیں اپنی لونڈیاں بنا لیا جائے۔ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اس کی یہ تدبیر انتہائی ظالمانہ تھی۔ مگر جو کام اللہ کو منظور تھا وہ ہو کے رہا اور فرعون کے سر پر چڑھ کر ہوا۔ موسیٰؑ پیدا ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ پر جوت مارا کہ موسیٰؑ کی پرورش بھی اس کے گھر میں ہوئی۔ آیت﴿ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ [21: 12]