ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 48

وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور اس دن سے بچو جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی اور نہ اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ En
اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کر سکیں
En
اس دن سے ڈرتے رہو جب کوئی کسی کو نفع نہ دے سکے گا اور نہ ہی اس کی بابت کوئی سفارش قبول ہوگی اور نہ کوئی بدلہ اس کے عوض لیا جائے گا اور نہ وه مدد کئے جائیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ اور اس دن سے ڈرتے رہو جب نہ تو کوئی کسی دوسرے کے کام آ سکے گا، نہ اس کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی، نہ ہی اسے معاوضہ لے کر چھوڑ دیا جائے گا اور نہ ہی ان (مجرموں) کو کہیں سے [67] مدد پہنچ سکے گی
[67] سفارش پر تکیہ کرنا نری بے وقوفی ہے:۔
ان کے اسی غلط عقیدہ کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے، کہ عذاب سے نجات کی جو چار صورتیں ممکن ہیں ان میں سے کوئی بھی تمہارے کام نہ آ سکے گی۔ یعنی کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہ ہو گا، نہ کسی کی سفارش کام آئے گی، نہ وہ فدیہ دے کر چھوٹ سکے گا اور نہ ہی اللہ کے مقابلہ میں وہاں اس کا کوئی حامی و مددگار ہو گا۔ لہٰذا خوب سمجھ لو کہ محض انبیاء کی اولاد ہونے کی بنا پر تم کبھی اپنی کرتوتوں کی سزا سے بچ نہ سکو گے۔ یہ درست ہے کہ قیامت کے دن انبیاء اور صلحاء گنہگاروں کے لیے سفارش کریں گے لیکن اس سفارش کی شرائط ایسی ہیں کہ سفارش پر تکیہ کرنا مشکل ہے مثلاً یہ کہ سفارش وہی کرے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، اور اتنی ہی کر سکے گا جتنی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو گی، یا صرف اسی گناہ کے لیے سفارش کر سکے گا۔ جس کا اللہ کی طرف سے اذن ہو گا، اور صرف اسی شخص کے حق میں کر سکے گا جس کے حق میں سفارش کرنا منظور ہو گا۔