ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 40

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَ اِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۴۰﴾
اے اسرائیل کی اولاد! میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور تم میرا عہد پورا کرو، میں تمھارا عہد پورا کروں گا اور صرف مجھی سے پس ڈرو۔ En
اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو
En
اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ اے بنی اسرائیل! [59] میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تمہیں عطا کی تھیں۔ اور تمہارا مجھ سے جو عہد تھا [60] اسے تم پورا کرو اور میرا تم سے جو عہد تھا اسے میں پورا کروں گا۔ اور فقط مجھ ہی سے ڈرتے رہو
[59] بنی اسرائیل سے خطاب کا آغاز:۔
یہاں سے خطاب کا رخ عوام الناس کے بجائے بنی اسرائیل کی طرف ہو گیا ہے جو چودھویں رکوع تک چلتا ہے۔ یہود مدینہ میں بکثرت آباد تھے۔ چونکہ سیدنا اسحاقؑ سے لے کر ان میں تقریباً چار ہزار نبی آ چکے تھے۔ اس لیے تمام عرب پر ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے بے شمار انعامات کئے تھے۔ مگر کچھ مدت گزرنے پر ان میں بہت سے عیوب پیدا ہو گئے تھے اپنے اس علمی تفوق کی بنا پر اور اس حسد کی بنا پر کہ آنے والا نبی اسحاقؑ کی اولاد سے نہیں، انہوں نے دعوت اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ اگلی آیات میں ان کا مفصل ذکر آ رہا ہے۔ اسرائیل کا معنی عبد اللہ ہے اور یہ یعقوبؑ کا لقب تھا اور بنو اسرائیل سے مراد ان کی اولاد یا یہودی قوم ہے۔ جن کے لیے تورات نازل ہوئی۔
[60] بنی اسرائیل کا کتاب اللہ سے سلوک:۔
وہ عہد یہ تھا کہ تم تورات کے احکام کے پابند رہو گے اور میں جو پیغمبر بھیجوں اس پر ایمان لا کر اس کا ساتھ دو گے اور اللہ کا عہد یہ تھا کہ ملک شام تمہارے قبضہ میں رہے گا۔ بنی اسرائیل نے اس اقرار کو قبول تو کر لیا مگر بعد میں اس پر قائم نہ رہے، بدنیتی کی، رشوت لے کر غلط مسئلے بتائے، حق کو چھپایا۔ آنے والے نبیوں کی اطاعت کے بجائے ان میں سے بعض کو قتل ہی کر ڈالا اور اپنی ریاست جمائی اور تورات میں جہاں کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف تھی اسے بھی بدل ڈالا۔