ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 263

قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّ مَغۡفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتۡبَعُہَاۤ اَذًی ؕ وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیۡمٌ ﴿۲۶۳﴾
اچھی بات اور معاف کر دینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے پیچھے کسی طرح کا تکلیف پہنچانا ہو اور اللہ بہت بے پروا، بے حد برد بار ہے۔ En
جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے
En
نرم بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور بردبار ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

263۔ اچھی بات اور درگزر کر دینا [379] ایسے صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا دی جائے۔ اور اللہ بے نیاز ہے اور بردبار ہے۔
[379] صدقہ ہر شخص کے لیے ضروری ہے:۔
آپ نے فرمایا: ہر مسلمان کو صدقہ دینا ضروری ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے پاس مال نہ ہو؟“ آپ نے فرمایا: ”وہ ہاتھ سے محنت کرے خود بھی فائدہ اٹھائے اور خیرات بھی کرے۔“ صحابہؓ نے عرض کیا: اگر یہ بھی نہ ہو سکے؟ فرمایا: ”اچھی بات پر عمل کرے اور بری سے پرہیز کرے۔ اس کے لیے یہ بھی صدقہ ہے۔“ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة، باب على كل مسلم صدقه۔۔۔ الخ]
صدقہ سے متعلق احادیث:۔
2۔ نیز آپ نے فرمایا: آگ سے بچو، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے سے ہی ہو۔ [بخاري، كتاب الزكوٰة، باب اتقوا النار ولو بشق تمرة۔۔۔ الخ]
3۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کونسا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے؟ فرمایا: جو رمضان میں دیا جائے۔ [ترمذي، ابواب الزكوٰة، باب ماجاء فى فضل الصدقة]
4۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”کونسا صدقہ افضل ہے؟“ فرمایا: ”تنگ دست جو اپنی محنت میں سے صدقہ کرے اور ان سے ابتدا کر جو تیرے زیر کفالت ہیں۔“ [ابو داؤد، كتاب الزكوٰة، باب الرجل يخرج من ماله۔۔۔]
افضل صدقہ:
5۔ ایک دفعہ ایک اور آدمی نے آپ سے یہی سوال کیا کہ کونسا صدقہ افضل ہے؟' آپ نے جواب دیا: ”جو صدقہ تو تندرستی کی حالت میں کرے۔ جبکہ تو حرص رکھتا ہو اور فقر سے ڈرتا ہو، اور دولت کی طمع رکھتا ہو۔ لہٰذا صدقہ کرنے میں جلدی کرو۔ ایسا نہ ہو کہ جان لبوں پر آ جائے تو کہنے لگے کہ اتنا فلاں کو دے دو، اتنا فلاں کو دے دو، حالانکہ اس وقت مال اس کا نہیں بلکہ اس کے وارثوں کا ہوتا ہے۔“ [مسلم، كتاب الزكوٰة، باب ان افضل الصدقة صدقة الصحيح الشحيح]