تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکی میں سے یہ بھی ہے کہ تو اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ ملے اور یہ کہ اپنے ڈول میں سے اس کے ڈول میں (پانی) انڈیل دے۔“ [ترمذی، البر والصلۃ، باب ما جاء فی طلاقۃ …: ۱۹۷۰، و صححہ الألبانی]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کونسا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے؟ فرمایا: جو رمضان میں دیا جائے۔ [ترمذي، ابواب الزكوٰة، باب ماجاء فى فضل الصدقة]
4۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”کونسا صدقہ افضل ہے؟“ فرمایا: ”تنگ دست جو اپنی محنت میں سے صدقہ کرے اور ان سے ابتدا کر جو تیرے زیر کفالت ہیں۔“ [ابو داؤد، كتاب الزكوٰة، باب الرجل يخرج من ماله۔۔۔]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ حلیم اور بردبار ہے، گناہوں کو دیکھتا ہے اور حلم و کرم کرتا ہے بلکہ معاف فرما دیتا ہے، تجاوز کر لیتا ہے اور بخش دیتا ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت نہ کرے گا نہ ان کی طرف نظرِ رحمت سے دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کیلئے درد ناک عذاب ہیں، ایک تو دے کر احسان جتانے والا، دوسرا ٹخنوں سے نیچے پاجامہ اور تہبند لٹکانے والا، تیسرا اپنے سودے کو جھوٹی قسم کھا کر بیچنے والا۔ [صحیح مسلم:106] ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ ماں باپ کا نافرمان خیرات صدقہ کر کے احسان جتانے والا شرابی اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه:3376، قال الشيخ الألباني:حسن]
اسی لیے اس آیت میں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے صدقات و خیرات کو منت سماجت و احسان رکھ کر اور تکلیف پہنچا کر برباد نہ کرو، اس احسان کے جتانے اور تکلیف کے پہنچانے کا گناہ صدقہ اور خیرات کا ثواب باقی نہیں رکھا۔ پھر مثال دی کہ احسان اور تکلیف دہی کے صدقے کے غارت ہو جانے کی مثال اس صدقہ جیسی ہے جو ریاکاری کے طور پر لوگوں کو دکھاوے کیلئے دیا جائے۔ اپنی سخاوت اور فیاضی اور نیکی کی شہرت مدنظر ہو، لوگوں میں تعریف و ستائش کی چاہت ہو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی طلب نہ ہو نہ اس کے ثواب پر نظر ہو، اسی لیے اس جملے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہ ہو تو اس ریاکارانہ صدقے کی اور اس احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے کے صدقہ کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی صاف چٹیل پتھر کی چٹان ہو جس پر مٹی بھی پڑی ہوئی ہو، پھر سخت شدت کی بارش ہو تو جس طرح اس پتھر کی تمام مٹی دُھل جاتی ہے اور کچھ بھی باقی نہیں رہتی، اسی طرح ان دونوں قسم کے لوگوں کے خرچ کی کیفیت ہے کہ گو لوگ سمجھتے ہوں کہ اس کے صدقہ کی نیکی اس کے پاس ہے جس طرح بظاہر پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن جیسے کہ بارش سے وہ مٹی جاتی رہی اسی طرح اس کے احسان جتانے یا تکلیف پہچانے یا ریاکاری کرنے سے وہ ثواب بھی جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچے گا تو کچھ بھی جزا نہ پائے گا، اپنے اعمال میں سے کسی چیز پر قدرت نہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ کافر گروہ کی راہِ راست کی طرف رہبری نہیں کرتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ذكر الله أربع مراتب للإحسان:
المرتبة العليا: النفقة الصادرة عن نية صالحة ولم يتبعها المنفق منًّا ولا أذى.
ثم يليها قول المعروف وهو الإحسان القولي بجميع وجوهه الذي فيه سرور المسلم، والاعتذار من السائل إذا لم يوافق عنده شيئاً، وغير ذلك من أقوال المعروف.
والثالثة الإحسان بالعفو والمغفرة عمن أساء إليك بقول أو فعل.
وهذان أفضل من الرابعة وخير منها وهي: التي يتبعها المتصدق الأذى للمعطي لأنه كدر إحسانه وفعل خيراً وشرًّا.
فالخير المحض وإن كان مفضولاً خير من الخير الذي يخالطه شرٌّ وإن كان فاضلاً، وفي هذا التحذير العظيم لمن يؤذي من تصدق عليه كما يفعله أهل اللؤم والحمق والجهل، {والله}؛ تعالى {غني}؛ عن صدقاتهم وعن جميع عباده {حليم}؛ مع كمال غناه وسعة عطاياه يحلم عن العاصين، ولا يعاجلهم بالعقوبة بل يعافيهم، ويرزقهم، ويدر عليهم خيره، وهم مبارزون له بالمعاصي.
ثم نهى أشد النهي عن المنِّ والأذى وضرب لذلك مثلاً: