اور تم پر اس بات میں کچھ گناہ نہیں جس کے ساتھ تم ان عورتوں کے پیغام نکاح کا اشارہ کرو، یا اپنے دلوں میں چھپائے رکھو، اللہ جانتا ہے کہ تم انھیں ضرور یاد کرو گے، اور لیکن ان سے پوشیدہ عہد و پیمان مت کرو، مگر یہ کہ کوئی معروف بات کرو اور نکاح کی گرہ پختہ نہ کرو، یہاں تک کہ لکھا ہوا حکم اپنی مدت کو پہنچ جائے اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے، پس اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔
En
اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے
تم پر اس میں کوئی گناه نہیں کہ تم اشارةً کنایتہً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیده اراده کرو، اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ تم ضرور ان کو یاد کرو گے، لیکن تم ان سے پوشیده وعدے نہ کرلو ہاں یہ اور بات ہے کہ تم بھلی بات بوﻻ کرو اور عقد نکاح جب تک کہ عدت ختم نہ ہوجائے پختہ نہ کرو، جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی باتوں کا بھی علم ہے، تم اس سے خوف کھاتے رہا کرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ بخشش اور علم واﻻ ہے
En
235۔ اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے اپنی بیویاں چھوڑ جائیں، وہ بیویاں چار ماہ دس دن [328] (بطور عدت) گذاریں، اور جب وہ اپنی عدت پوری کر لیں، اور اپنے (نکاح کے) بارے میں مناسب انداز میں کچھ کریں، تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
[328] یعنی ایسی عدت والی بیواؤں کو تم اشارتاً تو پیغام نکاح دے سکتے ہو مگر واضح الفاظ میں پیغام دینا نا جائز ہے۔ مثلاً اسے یوں کہہ سکتے ہو کہ میرا بھی کہیں نکاح کرنے کا ارادہ ہے یا اسے یوں کہہ دے کہ ابھی تم ماشاء اللہ جوان ہو۔ اور اس طرح اشارتاً پیغام سنا دینے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ کوئی دوسرا اس سے پہلے پیغام نہ دے دے، البتہ جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو اسے اشارتاً بھی کوئی ایسی بات کہنا حرام ہے۔ [329] یہ تو یقینی بات ہے کہ اگر تمہارا اس سے نکاح کا ارادہ ہے تو تم یقیناً اسے دل میں یاد رکھتے ہو گے۔ لیکن اس خیال سے مغلوب ہو کر نہ تو دوران عدت اس سے کوئی وعدہ کرنا یا وعدہ لینا اور نہ ہی نکاح کا ارادہ کرنا۔ البتہ اگر تمہارے دلوں میں جو ایسے خیالات آتے ہیں۔ ان پر تم سے کچھ مواخذہ نہیں۔ کیونکہ اللہ بخش دینے والا اور بردبار ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔