اور جو لوگ تم میں سے فوت کیے جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے اور دس راتیں انتظار میں رکھیں، پھر جب اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو وہ اپنی جانوں کے بارے میں معروف طریقے سے کریں اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پوری طرح با خبر ہے۔
En
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں، پھر جب مدت ختم کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وه اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناه نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے
En
234۔ اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو ایسی بیوائیں چار ماہ دس دن انتظار کریں۔ پھر جب ان کی [326] عدت پوری ہو جائے تو اپنے حق میں جو کچھ وہ معروف طریقے سے [327] کریں تم پر اس کا کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے
[326] سوگ منانے کی مدت اور حکمت:۔
عام حالت میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ لیکن اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل تک ہے [4: 65] اور یہی مدت بیوہ کے سوگ منانے کی مدت ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ”کسی عورت کو، جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے بجز اپنے شوہر کے جس پر اسے چار ماہ دس دن تک سوگ منانا لازم ہے۔“ [بخاري، كتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها] اور حضرت ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ ”ہمیں کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع کر دیا گیا۔ بجز خاوند کے جس پر چار ماہ دس دن سوگ منانے کا حکم تھا اور حکم یہ تھا کہ ان دنوں میں نہ ہم سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو، نہ ہی رنگے ہوئے کپڑے پہنیں، الا یہ کہ ان کی بناوٹ ہی رنگین دھاگے کی ہو۔ البتہ یہ اجازت تھی کہ ہم میں سے کوئی جب حیض سے پاک ہو اور غسل کرے تو کست الاظفار (ایک قسم کی خوشبو) لگائے۔ نیز ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے بھی منع کر دیا گیا تھا۔“ [بخاري، كتاب الحيض، باب الطيب للمرأة عند غسلها من المحيض] اور حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ام سلمہؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کا خاوند مر گیا ہے اور اب اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“، پھر اس عورت نے دوسری بار یہی سوال کیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی میں ہی جواب دیا۔ پھر فرمایا کہ ”اسلام میں تو عدت اور سوگ کا زمانہ صرف چار ماہ دس دن ہے جبکہ جاہلیت میں تو یہ عدت پورا ایک سال تھی، اور سال گزرنے کے بعد عورت اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔“ حمید (راوی) نے زینبؓ سے پوچھا کہ یہ ”اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا قصہ ہے؟“ زینبؓ نے کہا، جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جس عورت کا خاوند مر جاتا تو وہ ایک تنگ و تاریک جھونپڑے میں جا بیٹھتی۔ برے سے برا لباس پہنتی، نہ خوشبو لگاتی اور نہ کوئی دوسری آرائش و زیبائش کرتی۔ حتیٰ کہ پورا سال اسی طرح گزار دیتی۔ سال گزرنے پر اس کے پاس کوئی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لاتے جس سے وہ اپنی شرمگاہ رگڑتی تھی اور کبھی وہ جانور مر بھی جاتا۔ اس کے بعد اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی، جسے وہ اپنے سامنے پھینک دیتی (یہ گویا اس کی عدت پوری ہونے کی علامت ہوتی تھی) اس کے بعد ہی وہ خوشبو وغیرہ لگا سکتی تھی۔ [بخاري، كتاب الطلاق باب تحد المتوفي عنها زوجها اربعه أشهر و عشرا] رہی یہ بات کہ عورت یہ عدت یا سوگ کا عرصہ کہاں گزارے تو اس سلسلہ میں راجح قول یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مکان میں ہی گزارے اور اسے اتنے سفر کی اجازت ہے کہ رات کو اپنے مقام پر واپس آ جائے اور کچھ علماء کا یہ قول بھی ہے کہ بیوہ عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس پر سفر کی بھی پابندی نہیں۔
عدت کی مصلحت:۔
یہ عدت اللہ تعالیٰ نے اس لیے مقرر فرمائی کہ معلوم ہو سکے کہ عورت کو اپنے مرنے والے خاوند سے حمل تو نہیں۔ اگر حمل ہو تو عدت وضع حمل تک ہو گی تاکہ نسب میں اختلاط واقع نہ ہو۔ چار ماہ دس دن گزرنے کے بعد وہ اپنے نکاح کے معاملہ میں مختار ہے اور اس مدت میں یقینی طور پر معلوم ہو سکتا ہے کہ اسے متوفی خاوند سے حمل ہے یا نہیں۔ [327] یعنی ان کا نکاح کی بات چیت کرنا، زینت و آرائش کرنا، خوشبو لگانا، مقام عدت سے کسی اور جگہ چلے جانا، نکاح کر لینا، جو کچھ وہ اپنے حق میں بہتر اور مناسب سمجھیں سب کچھ جائز ہے اور اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔