ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 226

لِلَّذِیۡنَ یُؤۡلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ تَرَبُّصُ اَرۡبَعَۃِ اَشۡہُرٍ ۚ فَاِنۡ فَآءُوۡ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲۶﴾
ان لوگوں کے لیے جو اپنی عورتوں سے قسم کھا لیتے ہیں، چار مہینے انتظار کرنا ہے، پھر اگر وہ رجوع کر لیں تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں، ان کے لئے چار مہینے کی مدت ہے، پھر اگر وه لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ بھی بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

226۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لیں، ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے۔ اس دوران میں اگر وہ رجوع کر لیں [302] تو اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[302] مطلقہ کی مدت:۔
ایلاء (اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھانا) کی مدت چار ماہ ہے۔ مثلاً اگر کسی نے تین ماہ تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی تو یہ شرعاً ایلاء نہ ہو گا۔ اب آگے اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تین ماہ کے اندر صحبت کر لی، تو اب اس پر قسم کا کفارہ دینا ہو گا اور اگر تین ماہ کے بعد کی تو نہ کفارہ ہے نہ طلاق اور چار ماہ گزر جائیں اور مرد رجوع نہ کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی، اور بعض فقہاء کے نزدیک یہ معاملہ عدالت میں جائے گا اور طلاق عدالت کے ذریعہ ہو گی۔ [مزيد تفصيل سورة مجادله ميں ديكهئے]