تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
جاہلیت میں نکاح کرنے کے بعد بعض لوگ لمبی مدت تک بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لیتے، یا مدت کی تعیین کیے بغیر ہمیشہ کے لیے قسم کھا لیتے، وہ بیچاری لٹکی رہتی، نہ خاوند والی نہ بغیر خاوند کے کہ کہیں اور نکاح کر لے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس ظلم کا خاتمہ فرمایا۔ اب اگر کوئی چار ماہ سے زائد مدت کے لیے، یا مدت مقرر کیے بغیر قسم کھا لے تو ایسے شخص کے لیے اس آیت میں چار ماہ کی مدت مقرر کر دی گئی ہے کہ یا تو اس مدت کے پورا ہوتے ہی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے، یا پھر سیدھی طرح سے طلاق دے دے۔ پہلی صورت اختیار کرے گا تو اسے کفارہ دینا ہو گا اور اگر وہ دونوں میں سے کوئی صورت بھی اختیار نہ کرے تو حاکم وقت اسے مجبور کرے گا کہ دونوں میں سے ایک اختیار کرے۔ صرف چار ماہ گزرنے سے خود بخود طلاق واقع نہیں ہو گی۔ آیت کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ”{كِتَابُ الطَّلاَقِ} (۵۲۹۱) “ میں ابن عمر، عثمان، علی، ابو درداء، عائشہ رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ بارہ صحابہ سے یہ قول ذکر فرمایا ہے۔ اکثر ائمہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر بعض تو کہتے ہیں یہ طلاق رجعی ہو گئی، بعض کہتے ہیں بائن ہو گی، جو لوگ طلاق پڑنے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اسے عدت بھی گزارنی پڑے گی۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوالشعثاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ان چار مہینوں میں اس عورت کو تین حیض آ گئے ہیں تو اس پر عدت بھی نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی قول یہی ہے لیکن جمہور متاخرین علماء کا فرمان یہی ہے کہ اس مدت کے گزرتے ہیں طلاق واقع نہ ہو گی بلکہ اب ایلاء کرنے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی قسم کو توڑے یا طلاق دے۔ موطا مالک میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:5290]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من الأيمان الخاصة بالزوجة في أمر خاص وهو حلف الرجل على ترك وطء زوجته مطلقاً أو مقيداً بأقل من أربعة أشهر أو أكثر، فمن آلى من زوجته خاصة فإن كان لدون أربعة أشهر فهذا مثل سائر الأيمان إن حنث كفَّر وإن أتم يمينه فلا شيء عليه، وليس لزوجته عليه سبيل لأنه مَلَّكَه أربعة أشهر، وإن كان أبداً أو مدة تزيد على أربعة أشهر ضربت له مدة أربعة أشهر من يمينه إذا طلبت زوجته ذلك لأنه حق لها، فإذا تمت أمر بالفيئة وهو الوطء، فإن وطئ فلا شيء عليه إلا كفارة اليمين، وإن امتنع أجبر على الطلاق، فإن امتنع طلق عليه الحاكم ولكن الفيئة والرجوع إلى زوجته أحب إلى الله تعالى، ولهذا قال: {فإن فاءوا}؛ أي: رجعوا إلى ما حلفوا على تركه وهو الوطء، {فإن الله غفور}؛ يغفر لهم ما حصل منهم من الحلف بسبب رجوعهم {رحيم}؛ حيث جعل لأيمانهم كفارة وتحلة ولم يجعلها لازمة لهم غير قابلة للانفكاك، ورحيم بهم أيضاً حيث فاءوا إلى زوجاتهم وحنوا عليهن ورحموهن.