ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 223

نِسَآؤُکُمۡ حَرۡثٌ لَّکُمۡ ۪ فَاۡتُوۡا حَرۡثَکُمۡ اَنّٰی شِئۡتُمۡ ۫ وَ قَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ مُّلٰقُوۡہُ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۲۳﴾
تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں، سو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آئو اور اپنے لیے آگے (سامان) بھیجو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دے۔ En
تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو
En
تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیجیئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

223۔ عورتیں تمہاری کھیتیاں [298] ہیں۔ لہذا جدھر سے تم چاہو اپنی کھیتی میں آؤ۔ مگر اپنے مستقبل [299] (کی بھلائی) کا خیال رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔ اور جو لوگ ان باتوں پر ایمان لاتے ہیں (اے نبی) انہیں (فلاح کی) خوشخبری سنا دو
[298] اس آیت کے شان نزول میں دو طرح کی احادیث آئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہودی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس اس کے پیچھے سے آئے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے (ان کے اس خیال کی تردید میں) یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري، كتاب التفسير زير آيت مذكوره- مسلم، كتاب النكاح، باب جواز جماعه امراته فى قبلها من قدامها و من ورائها من غير تعرض للدبر] دوسری یہ کہ عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے کہ: ”میں ہلاک ہو گیا“ آپ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے ہلاک کیا؟“ کہنے لگے: میں نے آج اپنی سواری پھیر لی۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا تا آنکہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”آگے سے صحبت کرو یا پیچھے سے مگر دبر میں یا حیض کی حالت میں مجامعت نہ کرو۔“ [ترمذي، ابواب التفسير، زير آيت مذكوره] گویا اس آیت میں بیوی کو کھیتی سے تشبیہ دے کر یہ واضح کر دیا کہ نطفہ جو بیج کی طرح ہے صرف سامنے (فرج) ہی میں ڈالا جائے۔ خواہ کسی بھی صورت میں ڈالا جائے، لیٹ کر، بیٹھ کر، پیچھے سے بہرحال فرج ہی میں ڈالا جائے اور پیداوار یعنی اولاد حاصل کرنے کی غرض سے ڈالا جائے۔
[299] مجامعت کا مقصد:۔
یعنی اولاد کی خاطر اور اپنی نسل برقرار رکھنے کے لیے یہ کام کرو۔ تاکہ تمہارے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد تمہاری جگہ پر دین کا کام کرنے والے موجود ہوں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح طور پر تربیت کرو انہیں علم سکھلاؤ اور دیندار بناؤ ان کے اخلاق سنوارو اور اس کے عوض آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھو۔