ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 218

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۱۸﴾
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے
En
البتہ ایمان ﻻنے والے، ہجرت کرنے والے، اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے واﻻ اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

218۔ (بخلاف اس کے) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار [289] ہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے
[289] یہ آیت در اصل مجاہدین کے اسی دستہ کے متعلق ہے جنہیں نخلہ کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ان مجاہدین کو یہ تردد تھا کہ آیا اس جہاد کا ثواب بھی ملتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس میں دو غلطیاں ہو گئیں تھیں ایک یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر جہاد کیا تھا دوسری غلطی یہ کہ یکم رجب کو لڑائی کی جس کا انہیں علم نہ ہو سکا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں اللہ کی رحمت کا امیدوار ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ غلطیوں کو معاف کر دینے والا ہے۔ مہربان ہے۔
جہاد کی تعریف اور غرض و غایت:۔
جہاد در اصل ہر اس کوشش کا نام ہے جو اسلام کی راہ میں مزاحم ہونے والی رکاوٹوں کو دور کر دے۔ اگر کوئی شخص ذہن سے اس قسم کی تدابیر سوچتا ہے یا کافروں کی تدابیر کا توڑ سوچتا ہے تو یہ بھی جہاد ہے اور اگر شخص زبان یا قلم سے اس مقصد پر دوسروں کو آمادہ کرتا ہے یا معاندین اسلام کے اعتراضات کی تردید کرتا ہے اور انہیں جواب دیتا ہے تو یہ بھی جہاد ہے یعنی ہر امکانی کوشش کو اس مقصد میں صرف کر دینے کا نام جہاد ہے اور اس کی آخری حد یہ ہے کہ اگر جان کی بازی لگانے کی ضرورت پیش آئے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے اور جہاد کی غرض و غایت یہ ہے کہ دوسرے تمام ادیان کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اسی کا بول بالا ہو۔ اس غرض کے علاوہ اور کسی بھی مقصد کے لیے جنگ کی جائے تو اسے جنگ یا قتال تو کہہ سکتے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ایک گنوار (لاحق بن ضمیرہ باہلی) آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص لوٹ حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے، کوئی ناموری کے لیے، کوئی اپنی بہادری جتانے کے لیے اور کوئی حمیت (قومی یا قبائلی) کے لیے لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ میں کون لڑتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے وہ کھڑے کھڑے سوال کر رہا تھا) اور فرمایا: جو کوئی اس نیت سے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، اللہ کی راہ میں وہی لڑتا ہے۔ [بخاري كتاب الجهاد، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا] اس مضمون کی اور بھی احادیث بخاری اور مسلم میں مذکور ہیں۔ جن کے استقصاء سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں شرکت کے لیے عوام الناس میں مندرجہ ذیل پانچ قسم کے محرکات ہی پائے جا سکتے ہیں۔ 1۔ بعض لوگ اس لیے لڑتے ہیں کہ لوٹ مار سے مال ہاتھ آئے گا یا اموال غنیمت کے علاوہ دوسرے دنیوی مفادات حاصل ہوں گے۔ 2۔ کچھ اس وجہ سے لڑتے ہیں کہ ان کا نام تاریخ میں ثبت ہو گا۔ 3۔ کچھ اس لیے لڑتے ہیں کہ لوگ ان کے بہادری کے کارنامے فخریہ طور پر بیان کریں گے۔ 4۔ کچھ اپنے کسی خون یا پہلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے انتقام کے طور پر لڑتے ہیں۔ 5۔ اور کچھ لوگ اپنے وطن، قوم اور قبیلہ کی حمایت میں لڑتے ہیں۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی متمدن دنیا میں بھی انسان کی ذہنی سطح اس مقام سے ذرہ بھر بھی بلند نہیں ہو سکی۔ صرف انداز و اطوار ہی بدلے ہیں مقاصد کے لحاظ سے انہی مندرجہ بالا وجوہ میں سے کوئی نہ کوئی بات نظر آئے گی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب مقاصد کے علاوہ ایک بلند تر مقصد کا پتہ دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ صرف وہ کہلا سکتا ہے، جو اعلائے کلمۃ اللہ یعنی اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے لڑا جائے، بالفاظ دیگر دنیا سے فتنہ و فساد ختم کر کے اسے احکام و فرامین الٰہی کے سامنے سر جھکا دینے کا نام جہاد فی سبیل اللہ ہے جس میں انسان کی اپنی کسی ذاتی خواہش کو ذرہ بھر بھی دخل نہ ہونا چاہیے۔ جنگ کے متعلق یہ تصور دنیا بھر کے لیے ایک انوکھا تصور تھا۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ بھی ابتداء میں اس تصور جہاد پر بہت متعجب ہوئے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص مالی فائدے یا ناموری کے لیے جنگ کرتا ہے اسے کیا ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہیں ملے گا۔“ سائل اس سوال پر بہت متعجب ہوا اور آ کر دوبارہ یہی سوال کیا، آپ نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ اس کا اطمینان اب بھی نہ ہوا، سہ بارہ اور چوتھی بار پلٹ کر آیا اور یہی سوال کرتا رہا: آپ نے اس کے تعجب کی وجہ بھانپ کر فرمایا ”اللہ کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ خاص اس کی خوشنودی اور رضا کے لیے نہ کیا جائے۔“ [نسائي۔ كتاب الجهاد، باب من غزايلتمس الاجر]