یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ وہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی؟ سن لو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔
En
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک تم پر وه حاﻻت نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔ انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے
En
214۔ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے جبکہ تمہیں ابھی وہ مصائب پیش ہی نہیں آئے جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں کو پیش آئے تھے۔ ان پر اس قدر سختیاں اور مصیبتیں آئیں جنہوں نے ان کو ہلا کے رکھ دیا۔ تا آنکہ رسول خود اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے سب پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب [283] آئے گی؟ (اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا) سن لو! اللہ کی مدد پہنچا ہی چاہتی ہے۔
[283] مکی دور میں حکومت اور امن کی بشارت:۔
پھر جب کوئی نیا نبی مبعوث ہوتا ہے تو اسے کئی فرقوں میں بٹی ہوئی امت کو پھر سے ایک طریقہ پر لانے اور ایک امت بنانے پر بہت محنت صرف کرنا پڑتی ہے اور بہت سے مصائب اور دشواریاں پیش آتی ہیں۔ انبیاء کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو ابتدءً انبیاء کا ساتھ دیتے ہیں۔ کیونکہ باطل قوتیں جو مالی اور افرادی قوت کے لحاظ سے اس نئے نبی اور اس کے چند پیروؤں سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں ان کے مقابلہ پر اتر آتی ہیں اور کچل دینے سے بھی دریغ نہیں کرتیں اور یہ مصائب اتنے شدید ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انبیاء اور ان کے متبعین بہ تقاضائے بشریت پکار اٹھتے ہیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟
خباب بن ارتؓ کا شکوہ:
چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی دیوار کے سایہ میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر بیٹھے تھے تو سیدنا خباب بن ارتؓ نے عرض کیا ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟“ یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ چھوڑ کر سیدھے بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں۔ جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان رکھ کر چلایا جاتا اور دو ٹکڑے کر دیے جاتے مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور اللہ اپنے اس کام کو ضرور پورا کر کے رہے گا۔ یہاں تک کہ ایک شخص صنعا سے سوار ہو کر حضرموت تک چلا جائے گا، اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہ ہو گا۔“ [بخاري۔ كتاب المناقب باب مالقي النبى واصحابه من المشركين بمكة] اور بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں ’مگر تم لوگ تو جلدی مچاتے ہو۔‘
پر امن زندگی کی بشارت:۔
اس حدیث میں مسلمانوں کے لیے کئی بشارتیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ کافروں کی ضرر رسانی اور ایذا دہی کا دور عنقریب ختم ہونے والا ہے۔ پھر تمہاری اپنی حکومت قائم ہو گی جس میں ہر ایک کو پرامن زندگی بسر کرنا میسر آئے گی۔ کسی چور، ڈاکو، لٹیرے کو یہ جرأت نہ ہو گی کہ وہ دوسرے کے مال کی طرف نظر بھر کر دیکھ بھی سکے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔