ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 188

وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَ تُدۡلُوۡا بِہَاۤ اِلَی الۡحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾٪
اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھائو اور نہ انھیں حاکموں کی طرف لے جائو، تاکہ لوگوں کے مالوں میں سے ایک حصہ گناہ کے ساتھ کھا جائو، حالانکہ تم جانتے ہو۔ En
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
En
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ﻇلم وستم سے اپنا کر لیا کرو، حاﻻنکہ تم جانتے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

188۔ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل [247] طریقوں سے نہ کھاؤ، نہ ہی ایسے مقدمات اس غرض سے حکام تک لے جاؤ کہ تم دوسروں کے مال کا کچھ حصہ ناحق طور پر ہضم کر جاؤ، حالانکہ حقیقت حال تمہیں معلوم ہوتی ہے
[247] باطل طریقوں سے مال کھانے کی صورتیں:۔
باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کرنے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً چوری، خیانت، دغا بازی، ڈاکہ، جوا، سود اور تمام نا جائز قسم کی تجارتیں اور سودے بازیاں ہیں اور اس آیت میں بالخصوص اس نا جائز طریقہ کا ذکر ہے جو حکام کی وساطت سے حاصل ہو۔ اس کی ایک عام صورت تو رشوت ہے کہ حاکم کو رشوت دے کر مقدمہ اپنے حق میں کرا لے اور اس طرح دوسرے کا مال ہضم کر جائے اور دوسری یہ کہ مثلاً تمہیں معلوم ہے کہ فلاں جائیداد یا فلاں چیز زید کی ہے۔ لیکن اس کی ملکیت کا کوئی ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہے اور تم مقدمہ کی صورت میں ایچ پیچ کے ذریعہ وہ چیز زید سے ہتھیا سکتے ہو تو اس طرح عدالت کے ذریعہ تم اس چیز کے مالک بن سکتے ہو۔ اس طرح بھی دوسرے کا مال ہضم کرنا حرام ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ”میں ایک انسان ہی ہوں۔ تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے کی نسبت اپنی دلیل اچھی طرح پیش کرتا ہو اور میں جو کچھ سنوں اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں اور اگر میں کسی کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دینے کا فیصلہ کر دوں تو اسے چاہیے کہ نہ لے۔ کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔“ [بخاري، كتاب الاحكام، باب موعظة الامام للخصوم]