ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 181

فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعۡدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۸۱﴾ؕ
پھر جو شخص اسے بدل دے، اس کے بعد کہ اسے سن چکا ہو تو اس کا گناہ انھی لوگوں پر ہے جو اسے بدلیں، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
En
اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناه بدلنے والے پر ہی ہوگا، واقعی اللہ تعالیٰ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

181۔ پھر اگر کوئی شخص وصیت کو سننے کے بعد اس کو بدل دے تو اس کا گناہ انہی پر ہو گا جو اسے تبدیل [227] کرتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[227] یعنی مرنے والے نے تو وصیت انصاف کے ساتھ کی ہو۔ مگر کوئی با اختیار وارث اس میں ترمیم و تنسیخ کر دے یا چند وارث مل کر تبدیلی کر دیں تو وہ سب گنہگار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے خود غرض لوگوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کے ارادوں تک کو جاننے والا ہے۔