ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 181

فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعۡدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۸۱﴾ؕ
پھر جو شخص اسے بدل دے، اس کے بعد کہ اسے سن چکا ہو تو اس کا گناہ انھی لوگوں پر ہے جو اسے بدلیں، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
En
اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناه بدلنے والے پر ہی ہوگا، واقعی اللہ تعالیٰ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت182،181) وصیت کا بدلنا بڑا گناہ ہے، اس میں وصیت کا چھپانا بھی داخل ہے۔ { جَنَفًا } مائل ہونا یعنی اگر کسی کی طرف دلی میلان کی وجہ سے وصیت میں اس کی نامناسب طرف داری ہو۔ { اَوْ اِثْمًا } یا ناجائز کام کی وصیت ہو، مثلاً شراب پلانے کی، ناچ کرانے کی، کسی قبر پر چراغاں کرنے یا میلہ اور عرس کرانے کی تو ایسی وصیت کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ { جَنَفًا } سے مراد دلی میلان کی بنا پر غلطی یا بھول چوک سے طرف داری ہو جائے اور { اِثْمًا } سے مراد جان بوجھ کر کسی کی حق تلفی ہو۔ {فَاَصْلَحَ بَيْنَهُمْ} یعنی وارثوں کو سمجھا بجھا کر ان میں صلح کرا دے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

181۔ پھر اگر کوئی شخص وصیت کو سننے کے بعد اس کو بدل دے تو اس کا گناہ انہی پر ہو گا جو اسے تبدیل [227] کرتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[227] یعنی مرنے والے نے تو وصیت انصاف کے ساتھ کی ہو۔ مگر کوئی با اختیار وارث اس میں ترمیم و تنسیخ کر دے یا چند وارث مل کر تبدیلی کر دیں تو وہ سب گنہگار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے خود غرض لوگوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کے ارادوں تک کو جاننے والا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وصیت کی وضاحت ٭٭
اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے احکام نے اس وصیت کے حکم کو منسوخ کر دیا، ہر وارث اپنا مقررہ حصہ بy وصیت لے لے گا، سنن وغیرہ میں عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، [سنن ترمذي:2121، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ البقرہ کی تلاوت کرتے ہیں جب آپ رضی اللہ عنہ اس آیت پر پہنچتے ہیں تو فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے [حاکم:273/2]‏‏‏‏]‏‏‏‏ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ پہلے ماں باپ کے ساتھ اور کوئی رشتہ دار وارث نہ تھا اوروں کے لیے صرف وصیت ہوتی تھی پھر میراث کی آیتیں نازل ہوئیں اور ایک تہائی مال میں وصیت کا اختیار باقی رہا۔ اس آیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی آیت «لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۠ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا» [4۔ النسآء: 7]‏‏‏‏ ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ، حسن، مجاہد، عطاء، سعید بن جبیر، محمد بن سیرین، [تفسیر ابن ابی حاتم:302/1]‏‏‏‏ عکرمہ، [تفسیر ابن جریر الطبری:391/3]‏‏‏‏ زید بن اسلم، ربیع بن انس، قتادہ، سدی، مقاتل بن حیان، طاؤس، ابراہیم نخعی، شریح، ضحاک اور زہری رحمہم اللہ یہ سب حضرات بھی اس آیت کو منسوخ بتاتے ہیں، لیکن باوجود اس کے تعجب ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر کبیر میں ابو مسلم اصفہانی سے یہ کیسے نقل کر دیا کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ آیت میراث اس کی تفسیر ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ تم پر وہ وصیت فرض کی گئی جس کا بیان آیت «يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ» [4۔ النسآء: 11]‏‏‏‏ میں ہے اور یہی قول اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کا ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ وصیت کا حکم وارثوں کے حق میں منسوخ ہے اور جن کا ورثہ مقرر نہیں ان کے حق میں ثابت ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن، مسروق، طاؤس، ضحاک، مسلم بن یسار اور علاء بن زیاد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے، میں کہتا ہوں سعید بن جبیر، ربیع بن انس، قتادہ اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں لیکن ان حضرات کے اس قول کی بنا پر پہلے فقہاء کی اصطلاح میں یہ آیت منسوخ نہیں ٹھہرتی اس لیے کہ میراث کی آیت سے وہ لوگ تو اس حکم سے مخصوص ہو گئے جن کا حصہ شریعت نے خود مقرر کر دیا اور جو اس سے پہلے اس آیت کے حکم کی رو سے وصیت میں داخل تھے کیونکہ قرابت دار عام ہیں خواہ ان کا ورثہ مقرر ہو یا نہ ہو تو اب وصیت ان کے لیے ہوئی جو وارث نہیں اور ان کے حق میں نہ رہی جو وارث ہیں،
یہ قول اور بعض دیگر حضرات کا یہ قول کہ وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا اور وہ بھی غیر ضروری، دونوں کا مطلب قریباً ایک ہو گیا، لیکن جو لوگ وصیت کے اس حکم کو واجب کہتے ہیں اور روانی عبارت اور سیاق و سباق سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے ان کے نزدیک تو یہ آیت منسوخ ہی ٹھہرے گی جیسے کہ اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کرام کا قول ہے۔
پس والدین اور وراثت پانے والے قرابت داروں کے لیے وصیت کرنا بالاجماع منسوخ ہے بلکہ ممنوع ہے حدیث شریف میں آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، آیت میراث کا حکم مستقل ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ واجب و فرض ہے ذوی الفروض اور عصبات کا حصہ مقرر ہے اور اس سے اس آیت کا حکم کلیتًہ اٹھ گیا، باقی رہے وہ قرابت دار جن کا کوئی ورثہ مقرر نہیں ان کے لیے تہائی مال میں وصیت کرانا مستحب ہے کچھ تو اس کا حکم اس آیت سے بھی نکلتا ہے دوسرے یہ کہ حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مرد مسلمان کو لائق نہیں کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ وصیت کرنی چاہتا ہو تو دو راتیں بھی بغیر وصیت لکھے ہوئے گزارے راوی حدیث سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ اس فرمان کے سننے کے بعد میں نے تو ایک رات بھی بلا وصیت نہیں گزاری، [صحیح بخاری:2738]‏‏‏‏
قرابت داروں اور رشتہ داروں سے سلوک و احسان کرنے کے بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں آئی ہیں، ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم تو جو مال میری راہ میں خرچ کرے گا میں اس کی وجہ سے تجھے پاک صاف کروں گا اور تیرے انتقال کے بعد بھی میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا سبب بناؤں گا ۔ [دار قطنی 148/4:ضعیف]‏‏‏‏
خیرا سے مراد یہاں مال ہے اکثر جلیل القدر مفسرین کی یہی تفسیر ہے بعض مفسرین کا تو قول ہے کہ مال خواہ تھوڑا ہو خواہ بہت وصیت مشروع ہے جیسے میراث تھوڑے مال میں بھی ہے اور زیادہ میں بھی، بعض کہتے ہیں وصیت کا حکم اس وقت ہے جب زیادہ مال ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قریشی مر گیا ہے اور تین چار سو دینار اس کے ورثہ میں تھے اور اس نے وصیت کچھ نہیں کی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رقم وصیت کے قابل نہیں اللہ تعالیٰ نے آیت «إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ» [البقرہ: 180]‏‏‏‏ میں فرمایا ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک بیمار کی بیمار پرسی کو گئے اس سے کسی نے کہا وصیت کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وصیت خیر میں ہوتی ہے اور تو تو کم مال چھوڑ رہا ہے اسے اولاد کے لیے ہی چھوڑ جا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ساٹھ دینار جس نے نہیں چھوڑے اس نے خیر نہیں چھوڑی یعنی اس کے ذمہ وصیت کرنا نہیں، طاؤس رحمہ اللہ، اسی دینار بتاتے ہیں قتادہ رحمہ اللہ ایک ہزار بتاتے ہیں۔
معروف سے مراد نرمی اور احسان ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں وصیت کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اس میں بھلائی کرے برائی نہ کرے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے اسراف اور فضول خرچی نہ کرے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک لڑکی ہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کہا آدھے کی اجازت دیجئیے فرمایا نہیں کہا ایک تہائی کی اجازت دیجئیے فرمایا خیر تہائی مال کی وصیت کرو گو یہ بھی بہت ہے تم اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم انہیں فقیر اور تنگ دست چھوڑ کر جاؤ کہ وہ اوروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، [صحیح بخاری:6733]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کاش کہ لوگ تہائی سے ہٹ کر چوتھائی پر آ جائیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کی رخصت دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ تہائی بہت ہے۔ [صحیح بخاری:2742]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے حنظلہ بن جذیم بن حنفیہ کے دادا حنفیہ نے ایک یتیم بچے کے لیے جو ان کے ہاں پلتے تھے سو اونٹوں کی وصیت کی ان کی اولاد پر یہ بہت گراں گزرا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں نہیں صدقہ میں پانچ دو ورنہ دس دو ورنہ پندرہ ورنہ بیس ورنہ پچیس دو ورنہ تیس دو ورنہ پینتیس دو اگر اس پر بھی نہ مانوں تو خیر زیادہ سے زیادہ چالیس دو۔ [مسند احمد:67/5:حسن]‏‏‏‏ پھر فرمایا جو شخص وصیت کو بدل دے اس میں کمی بیشی کر دے یا وصیت کو چھپالے اس کا گناہ بدلنے والے کے ذمہ ہے میت کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اللہ تعالیٰ وصیت کرنے والے کی وصیت کی اصلیت کو بھی جانتا ہے اور بدلنے والے کی تبدیلی کو بھی نہ اس سے کوئی آواز پوشیدہ نہ کوئی راز۔ حیف کے معنی خطا اور غلطی کے ہیں.[تفسیر ابن ابی حاتم:210-211]‏‏‏‏ مثلا کسی وارث کو کسی طرح زیادہ دلوا دینا مثلا کہہ دیا کہ فلاں چیز فلاں کے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچ دی جائے وغیرہ اب یہ خواہ بطور غلطی اور خطا کے ہو یا زیادتی محبت و شفقت کی وجہ سے بغیر قصد ایسی حرکت سرزد ہو گئی ہو یا گناہ کے طور پر ہو تو وصی کو اس کے رد و بدل میں کوئی گناہ نہیں۔ وصیت کو شرعی احکام کے مطابق پوری ہو ایسی حالت میں بدلنے والے پر کوئی گناہ یا حرج نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں زندگی میں ظلم کر کے صدقہ دینے والے کا صدقہ اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح موت کے وقت گناہگار کرنے والے کا صدقہ لوٹا دیا جاتا ہے یہ حدیث ابن مردویہ میں بھی مروی ہے۔
ابن ابی حاتم فرماتے ہیں ولید بن یزید جو اس حدیث کا راوی ہے اس نے اس میں غلطی کی ہے دراصل یہ کلام عروہ رحمہ اللہ کا ہے، ولید بن مسلم نے اسے اوزاعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور عروہ رحمہ اللہ سے آگے سند نہیں لے گئے۔
امام ابن مردویہ بھی ایک مرفوع حدیث بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وصیت کی کمی بیشی کبیرہ گناہ ہے ۔ [دار قطنی:151/4:موقوف صحیح]‏‏‏‏ لیکن اس حدیث کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے اس بارے میں سب سے اچھی وہ حدیث ہے جو مسند عبدالرزاق میں بروایت سیدنا ابوہریرہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی نیک لوگوں کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے اور وصیت میں ظلم کرتا ہے اور برائی کے عمل پر خاتمہ ہونے کی وجہ سے جہنمی بن جاتا ہے اور بعض لوگ ستر برس تک بد اعمالیاں کرتے رہتے ہیں لیکن وصیت میں عدل وانصاف کرتے ہیں اور آخری عمل ان کا بھلا ہوتا ہے اور وہ جنتی بن جاتے ہیں، [سنن ابوداود:2867، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر چاہو تو قرآن پاک کی اس آیت کو پڑھ آیت «تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» [البقرہ: 229]‏‏‏‏ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَ٘مَنْۢ بَدَّلَهٗ پس جو شخص اس (وصیت) کو بدل ڈالے۔ یعنی جو کوئی اس وصیت کو بدلتا ہے جو ان مذکور لوگوں یا دیگر لوگوں کے حق میں کی گئی ہے ﴿ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ اس کو سننے کے بعد یعنی اس وصیت کو سمجھ لینے اور اس کے طریقوں اور اس کے نفاذ کو اچھی طرح جان لینے کے بعد جو کوئی اس کو تبدیل کرتا ہے ﴿ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ تو اس کا گناہ صرف انھی لوگوں پر ہے جو انھیں تبدیل کرتے ہیں۔ ورنہ وصیت کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے اجر کا مستحق ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ بے شک اللہ سنتا ہے۔ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے۔ اسی طرح وہ وصیت کرنے والے کی بات اور وصیت کو بھی سنتا ہے۔ پس وہ اس ہستی کا خوف کھاتے ہوئے جو اسے دیکھ اور سن رہی ہے اپنی وصیت میں ظلم اور زیادتی کا ارتکاب نہ کرے۔ ﴿عَلِیْمٌ وہ وصیت کرنے والے کی نیت کو جانتا ہے اور اس شخص کے عمل کو بھی جس کو یہ وصیت کی گئی ہے۔
جب وصیت کرنے والا پوری کوشش سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی نیت کو جانتا ہے تو اسے اپنی نیت کا ثواب ملتا ہے۔ خواہ اس سے خطا ہی کیوں نہ واقع ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تنبیہ ہے جس کو وصیت کی گئی ہو کہ وہ اس میں تبدیلی سے باز رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، اس کے فعل سے وہ باخبر ہے۔ پس اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ یہ تو تھا وصیت عادلہ کا حکم، رہی وہ وصیت جو ظلم اور گناہ کی بنیاد پر کی گئی ہو، تو وصیت کے وقت جو کوئی وصیت کرنے والے کے پاس موجود ہو اسے چاہیے کہ وہ اسے اس امر کی نصیحت کرے جو بہتر اور زیادہ قرین عدل ہو اور اسے ظلم کرنے سے روکے۔ (الْجَنَف) سے مراد بغیر کسی ارادے کے غلطی سے وصیت میں ظلم کا ارتکاب کرنا۔ اور (الْاِثْم) سے مراد عمداً ظلم کرناہے۔ اگر اس نے وصیت کے وقت وصیت کرنے والے کو (غلط وصیت کرنے سے) نہیں روکا، تو اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ان لوگوں کے مابین صلح کروا دے جن کو وصیت کی گئی ہے۔ ان کی باہمی رضامندی اور مصالحت کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل و انصاف کا اہتمام کرے اور ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ وہ اپنے مرنے والے کی ذمہ داری کو پورا کریں۔ باہمی صلح کروانے والے کا یہ فعل بہت بڑی نیکی ہے اور ان پر کوئی گناہ نہیں جیسے اس شخص کو گناہ ہوتا ہے جو جائز وصیت کو تبدیل کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ یعنی اللہ تعالیٰ تمام لغزشوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اس شخص کی غلطیوں سے درگزر کرتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے، وہ اس شخص کو بھی اپنی مغفرت سے نوازے گا جو اپنی ذات سے صرف نظر کر کے اپنا کچھ حق اپنے بھائی کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اس لیے کہ جو نرمی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح وہ اس مرنے والے کو بھی بخش دینے والا ہے جو اپنی وصیت میں ظلم کا ارتکاب کر گیا ہے، بشرطیکہ اس کے ورثا اس کو بریء الذمہ کرنے کی خاطر، اللہ کی رضا کے لیے آپس میں نرمی اور درگزر کا معاملہ اختیار کریں۔ ﴿ رَّحِیْمٌ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے اپنے بندوں پر ہر معاملہ اس طرح مشروع کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور نرمی سے معاملہ کریں۔ یہ آیات کریمہ وصیت کی ترغیب پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس امر پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ جس شخص کے لیے وصیت کی گئی ہے اس کو بیان کیاجائے اور ان میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو جائز وصیت میں تغیر و تبدل کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور ظلم پر مبنی وصیت میں اصلاح کرنے کی ترغیب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فمن بدله}؛ أي: الإيصاء للمذكورين أو غيرهم {بعدما سمعه}؛ أي: بعد ما عقله وعرف طرقه وتنفيذه {فإنما إثمه على الذين يبدلونه}؛ وإلا فالموصي وقع أجره على الله، وإنما الإثم على المبدل المغير {إن الله سميع}؛ يسمع سائر الأصوات ومنه سماعه لمقالة الموصي ووصيته فينبغي له أن يراقب من يسمعه ويراه وأن لا يجور في وصيته، {عليم}؛ بنيته وعليم بعمل الموصَى إليه، فإذا اجتهد الموصي، وعلم الله من نيته ذلك أثابه ولو أخطأ، وفيه التحذير للموصَى إليه من التبديل، فإن الله عليم به مطلع على [ما] فعله فليحذر من الله، هذا حكم الوصية العادلة وأما الوصية التي فيها حيف وجنف وإثم فينبغي لمن حضر الموصي وقت الوصية بها أن ينصحه بما هو الأحسن والأعدل، وأن ينهاه عن الجور والجنف وهو الميل بها عن خطأ من غير تعمد، والإثم وهو التعمد لذلك، فإن لم يفعل ذلك فينبغي له أن يصلح بين الموصَى إليهم ويتوصل إلى العدل بينهم على وجه التراضي والمصالحة ووعظهم بتبرئة ذمة ميتهم، فهذا قد فعل معروفاً عظيماً، وليس عليه إثم كما على مبدل الوصية الجائزة ولهذا قال: {إن الله غفور}؛ أي: يغفر جميع الزلات ويصفح عن التبعات لمن تاب إليه، ومنه مغفرته لمن غض من نفسه وترك بعض حقه لأخيه لأن من سامح سامحه الله، غفور لميتهم الجائر في وصيته إذا احتسبوا بمسامحة بعضهم بعضاً لأجل براءة ذمته، {رحيم}؛ بعباده حيث شرع لهم كل أمر به يتراحمون ويتعاطفون.

فدلت هذه الآيات على الحث على الوصية وعلى بيان من هي له وعلى وعيد المبدل للوصية العادلة والترغيب في الإصلاح في الوصية الجائرة.