تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض کہتے ہیں کہ وصیت کا حکم وارثوں کے حق میں منسوخ ہے اور جن کا ورثہ مقرر نہیں ان کے حق میں ثابت ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن، مسروق، طاؤس، ضحاک، مسلم بن یسار اور علاء بن زیاد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے، میں کہتا ہوں سعید بن جبیر، ربیع بن انس، قتادہ اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں لیکن ان حضرات کے اس قول کی بنا پر پہلے فقہاء کی اصطلاح میں یہ آیت منسوخ نہیں ٹھہرتی اس لیے کہ میراث کی آیت سے وہ لوگ تو اس حکم سے مخصوص ہو گئے جن کا حصہ شریعت نے خود مقرر کر دیا اور جو اس سے پہلے اس آیت کے حکم کی رو سے وصیت میں داخل تھے کیونکہ قرابت دار عام ہیں خواہ ان کا ورثہ مقرر ہو یا نہ ہو تو اب وصیت ان کے لیے ہوئی جو وارث نہیں اور ان کے حق میں نہ رہی جو وارث ہیں،
یہ قول اور بعض دیگر حضرات کا یہ قول کہ وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا اور وہ بھی غیر ضروری، دونوں کا مطلب قریباً ایک ہو گیا، لیکن جو لوگ وصیت کے اس حکم کو واجب کہتے ہیں اور روانی عبارت اور سیاق و سباق سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے ان کے نزدیک تو یہ آیت منسوخ ہی ٹھہرے گی جیسے کہ اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کرام کا قول ہے۔
قرابت داروں اور رشتہ داروں سے سلوک و احسان کرنے کے بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں آئی ہیں، ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم تو جو مال میری راہ میں خرچ کرے گا میں اس کی وجہ سے تجھے پاک صاف کروں گا اور تیرے انتقال کے بعد بھی میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا سبب بناؤں گا ۔ [دار قطنی 148/4:ضعیف]
خیرا سے مراد یہاں مال ہے اکثر جلیل القدر مفسرین کی یہی تفسیر ہے بعض مفسرین کا تو قول ہے کہ مال خواہ تھوڑا ہو خواہ بہت وصیت مشروع ہے جیسے میراث تھوڑے مال میں بھی ہے اور زیادہ میں بھی، بعض کہتے ہیں وصیت کا حکم اس وقت ہے جب زیادہ مال ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قریشی مر گیا ہے اور تین چار سو دینار اس کے ورثہ میں تھے اور اس نے وصیت کچھ نہیں کی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رقم وصیت کے قابل نہیں اللہ تعالیٰ نے آیت «إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ» [البقرہ: 180] میں فرمایا ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک بیمار کی بیمار پرسی کو گئے اس سے کسی نے کہا وصیت کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وصیت خیر میں ہوتی ہے اور تو تو کم مال چھوڑ رہا ہے اسے اولاد کے لیے ہی چھوڑ جا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ساٹھ دینار جس نے نہیں چھوڑے اس نے خیر نہیں چھوڑی یعنی اس کے ذمہ وصیت کرنا نہیں، طاؤس رحمہ اللہ، اسی دینار بتاتے ہیں قتادہ رحمہ اللہ ایک ہزار بتاتے ہیں۔
معروف سے مراد نرمی اور احسان ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں وصیت کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اس میں بھلائی کرے برائی نہ کرے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے اسراف اور فضول خرچی نہ کرے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کاش کہ لوگ تہائی سے ہٹ کر چوتھائی پر آ جائیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کی رخصت دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ تہائی بہت ہے۔ [صحیح بخاری:2742]
ابن ابی حاتم فرماتے ہیں ولید بن یزید جو اس حدیث کا راوی ہے اس نے اس میں غلطی کی ہے دراصل یہ کلام عروہ رحمہ اللہ کا ہے، ولید بن مسلم نے اسے اوزاعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور عروہ رحمہ اللہ سے آگے سند نہیں لے گئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فمن بدله}؛ أي: الإيصاء للمذكورين أو غيرهم {بعدما سمعه}؛ أي: بعد ما عقله وعرف طرقه وتنفيذه {فإنما إثمه على الذين يبدلونه}؛ وإلا فالموصي وقع أجره على الله، وإنما الإثم على المبدل المغير {إن الله سميع}؛ يسمع سائر الأصوات ومنه سماعه لمقالة الموصي ووصيته فينبغي له أن يراقب من يسمعه ويراه وأن لا يجور في وصيته، {عليم}؛ بنيته وعليم بعمل الموصَى إليه، فإذا اجتهد الموصي، وعلم الله من نيته ذلك أثابه ولو أخطأ، وفيه التحذير للموصَى إليه من التبديل، فإن الله عليم به مطلع على [ما] فعله فليحذر من الله، هذا حكم الوصية العادلة وأما الوصية التي فيها حيف وجنف وإثم فينبغي لمن حضر الموصي وقت الوصية بها أن ينصحه بما هو الأحسن والأعدل، وأن ينهاه عن الجور والجنف وهو الميل بها عن خطأ من غير تعمد، والإثم وهو التعمد لذلك، فإن لم يفعل ذلك فينبغي له أن يصلح بين الموصَى إليهم ويتوصل إلى العدل بينهم على وجه التراضي والمصالحة ووعظهم بتبرئة ذمة ميتهم، فهذا قد فعل معروفاً عظيماً، وليس عليه إثم كما على مبدل الوصية الجائزة ولهذا قال: {إن الله غفور}؛ أي: يغفر جميع الزلات ويصفح عن التبعات لمن تاب إليه، ومنه مغفرته لمن غض من نفسه وترك بعض حقه لأخيه لأن من سامح سامحه الله، غفور لميتهم الجائر في وصيته إذا احتسبوا بمسامحة بعضهم بعضاً لأجل براءة ذمته، {رحيم}؛ بعباده حيث شرع لهم كل أمر به يتراحمون ويتعاطفون.
فدلت هذه الآيات على الحث على الوصية وعلى بيان من هي له وعلى وعيد المبدل للوصية العادلة والترغيب في الإصلاح في الوصية الجائرة.