179۔ اور اے اہل دانش! تمہارے لیے قصاص ہی میں زندگی ہے۔ [225] (اور یہ قانون اس لیے فرض کیا گیا ہے) کہ تم ایسے کاموں سے پرہیز کرو
[225] قصاص میں زندگی کیسے ہے؟ یہ نہایت فصیح و بلیغ جملہ ہے۔ جس پر عرب کے فصحاء عش عش کر اٹھے۔ کیونکہ اس مختصر سے جملہ میں دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی قصاص بظاہر تو موت ہے۔ مگر حقیقت میں پوری زندگی کا راز اسی میں ہے۔ عرب میں جو فصیح محاورہ استعمال ہوتا تھا القتل انفی القتل یعنی قتل قتل ہی سے مٹتا ہے۔ مگر فی القصاص حیاۃ میں بدرجہا زیادہ لطافت، فصاحت، بلاغت ہے اور مضمون بھی بہت زیادہ سما گیا ہے۔ دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہٰذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور عرب بھر کا امن و سکون تباہ ہو چکا تھا۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا عادلانہ قانون دے کر دنیا بھر کے لوگوں کو جینے کا حق عطا فرما دیا۔
قصاص اور دیت کے چند ضروری مسائل:۔
1۔ قاتل کے لیے تین صورتیں ہیں (i) مقتول کے وارث قصاص پر ہی مصر ہوں (ii) قصاص تو معاف کر دیں مگر دیت لینا چاہیں (iii) سب کچھ معاف کر دیں۔ مقتول کے وارثوں کو ان سب باتوں کا اختیار ہے۔ 2۔ مقتول کے وارثوں میں سے اگر کوئی ایک بھی قصاص معاف کر دے تو قصاص کا معاملہ ختم اور پھر باقی صورتوں میں ممکن صورت پر عمل ہو گا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو قصاص لینے کے بجائے معاف کر دینا یا دیت لے لینا زیادہ پسند ہے۔ 3۔ کافر کے بدلے مسلم کو قتل نہ کیا جائے [بخاري، كتاب الديات، باب لا يقتل المسلم بالكافر] یہ اس صورت میں ہے جبکہ کافر حربی ہو اور اگر ذمی ہو تو اس کا قصاص یا دیت یا عفو ضروری ہے۔ 4۔ اگر باپ بیٹے کو قتل کر دے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ [احمد بيهقي بسند صحيح، بلوغ الاماني جلد 16 ص 320] 5۔ آج کل جاہلی دستور نہیں رہا۔ غلامی کا دور بھی ختم ہو گیا۔ اب یہ صورت باقی ہے کہ اگر عورت مرد کو یا مرد عورت کو قتل کر دے تو پھر کیا ہونا چاہیے۔ شریعت اس بارے میں خاموش ہے اور یہ قاضی کی صوابدید پر ہو گا۔ 6۔ جان کی دیت سو اونٹ ہے [نسائي، كتاب العقود والديات، عن عمرو بن جزم] یا ان کی قیمت کے برابر، یا جو کچھ اس وقت کی حکومت اس کے لگ بھگ مقرر کر دے۔ 7۔ دیت عصبات (ددھیال) کے ذمہ ہے [بخاري، كتاب الديات باب جنين المراة، نيز مسلم، كتاب القسامة باب ديت الجنين] تفصیلی مسائل کے لیے کتب احادیث کی طرف رجوع کیا جائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں